’’اگرتم ہوتے…قیامت نہ ہوتی‘‘

 ’’اگرتم ہوتے…قیامت نہ ہوتی‘‘

 قیامت کے  بارے میں آج کل کے میڈیا کے دومشہورمیزبانوں نے کروڑوں ناظرین کے دل دہلاکر کہ بس قیامت آنا ہی چاہتی ہے، درپردہ تحریک انصاف کے ساتھ ظلم کیا اور لوگوں نے پیسہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے خیراتی اداروں کو دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی میرا نیا ڈرائیور حَمزہ باتیں بنانے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے، خصوصاً مال روڈ یا کیولری گرائونڈ پر ٹریفک کا اشارہ جب بند ہوتا ہے، تو اسے نئی سے نئی بات کرنے کا جواز مل جاتا ہے، ٹریفک کے چند مخصوص اشارے اتنے طویل ہوتے ہیں، کہ بعض اوقات تو وہ بچوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ بچو اگر ہوم ورک کرنا ہے، تو یہیں کرلو، اورمیں سوچتاہوں، کہ وہ واقعی صحیح کہہ رہا ہے ابھی جو گزشتہ تین سال سے گلاب دیوی ہسپتال انڈرپاس کا جو افتتاح، اور کبھی سنگ بنیاد کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے، وہاں تو ٹریفک زیادہ پھنسنا شروع ہوگئی ہے، قارئین جیسے ہمارے ہاں عوام میں اور حکومت کے مزاج میں مطابقت نہیں ہوتی، ویسے ہی ٹریفک کے بہائو، اور اشارے کے بند ہونے کے وقفے میں مطابقت نہیں ہوتی۔ 

ایسے ہی موقع پر کل وہ مجھ سے پوچھنے لگا، کہ سرپہلے لوگ بات بات پر کہتے تھے، کہ چودھویں صدی ہے، قیامت قریب ہے، اور اخبارات بھی اور اکثر ممالک کے نجومی، اور حساب دان ایک تاریخ مقرر کردیتے تھے، بلکہ اب بھی کردیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو قیامت آئے گی، لیکن شدید انتظار کے باوجود بھی قیامت نہیں آتی، میں نے جواب دیا، بھئی قیامت کا علم تو محض اللہ تعالیٰ کو ہے، باقی سب باتیں فضول ہیں، اگر اپنے عقل سے کام لو، اور محکمہ موسمیات اور ارضیات کی پیشین گوئیوں پہ یقین کرنا چھوڑ دو، تو دسمبر جنوری میں جب زمین سکڑتی ہے، تو پاکستان کے خصوصاً شمالی علاقوں میں زلزلہ ضرور آتا ہے، اور یہ کہ قیامت کی چند نشانیوں کا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے، روزانہ نجانے غریبوں پہ کتنی قیامتیں گزر جاتی ہیں، میری یہ روایتی باتیں اس نے سنی ان سنی کردیں اور کہنے لگا سر میں نے بھی قیامت کے بارے میں بہت سوچا اور غورکیا ہے، میرے حساب کے مطابق تو قیامت اب آجانی چاہیے، میں نے فوراً لاحول ولا پڑھا، اور بادل نخواستہ تجسس کے عالم میں اس سے پوچھ بیٹھا، کہ تمہارے خیال میں قیامت کی کون سی نشانیاں ہیں۔ 

اُس نے مدبرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا، سر کون سی ملکی یا بین الاقوامی، اس کا جواب سن کر میں بڑا حیران ہوا، ڈرائیور کہنے لگا، جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ ، جیسے دنیا کا سب سے سنجیدہ اور مدبر انسان ہونا چاہیے ٹرمپ سے لے کر کلنٹن تک تو ’’کڑیاں ‘‘ تاڑتے ہیں کیا اس وقت قیامت آنہیں جانی چاہیے ، میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس کو صرف ٹرمپ ، اورکلنٹن کا پتہ ہے وہ مزید بولا جب پوری دنیا کے سامنے فلسطینی غریب بچے، اسرائیلی فوج اور اس کے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا غلیلوں سے مقابلہ کریں، اور دنیا ٹس سے مس نہ ہو، یہ بھی قیامت کی نشانی ہے، اور پھر یہی حال کشمیر میں بھی ہو، اور کوئی حکومت بھی بلند بانگ دعوئوں کے باوجود اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق استصواب رائے نہ کرسکی، میں درمیان میں بول پڑا، کہیں تمہارا اشارہ اب سابق کشمیری النسل وزیراعظم کے اپنے ملک میں حکومت وقت کہ انہیں اپنے ہی ملک میں، گرفتار نہ کرلے، جلاوطن کرکے باہر بھجوا دیا ہے وہ کہنے لگا صاحب ، یہ تو معمولی بات ہے، میں نے اکتائے اور ناگواری کے عالم میں قدرے غصے سے کہا، پوری دنیا یہ بات جانتی ہے، تم گاڑی چلانے پہ توجہ دو، میری بات سن کر یکدم گاڑی کی رفتار بڑھا دی، اور بولا اس صدی میں بھی ہم لوگ کس قدر پسماندہ ہیں، اگر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے، اور سول کے بجائے فوجی حکومت آجائے، تو یہ بھی تو قیامت کی نشانی ہے، میں بولا بھئی یہ کونسا نیا واقعہ ہے، یہ تو تین دفعہ پہلے بھی رونما ہوچکا ہے، ہاں البتہ یہ ضرور ہے، کہ ایک طرف تو غربت کا واویلا کیا جائے، مگر دوسری طرف اس ہی زبان سے یہ کہا جائے کہ پاکستانیوں کو مزید دوسال تک قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے ، حالانکہ لاغر اور لولے لنگڑے کی تو اسلام میں قربانی کی اجازت ہی نہیں ہے۔ 

ڈرائیور بولا، میں جلدی جلدی آپ کو چند نشانیاں بتاتا ہوں، قیامت کی نشانی یہ بھی تو ہے کہ فروٹ سستا ہو جائے اور سبزی مہنگی ہوجائے، یعنی سیب سستا ہو جائے، اور پیاز اور ٹماٹر مہنگا ہو جائے، قیامت کی نشانی یہ بھی تو ہے، کہ جاوید شیخ اپنے آپ کو کنوارہ سمجھے، پاکستان میں کلاسیکی موسیقی فوت ہو جائے، اور ’’پاپ‘‘ کمایا جائے، موسیقی کی الف، بے نہ سمجھنے والے، اپنے بالوں کے بل بوتے پہ اپنا گروپ بنالیں، اور موسیقی کو سمجھنے والے اپنی نئی سیاسی پارٹی بنالیں، اور مزید قیامت یہ کہ لوگ بھی بلا سوچے سمجھے ناچنا شروع کردیں، ملک میں جوا اس قدر عام ہو جائے، کہ رکشے کے اندر بیٹھی ہوئی سواری عورت ہے یا مرد ہے، اور قبرستان میں آنیوالی میت کس کی ہے؟ کیا یہ قیامت کی نشانی نہیں تھی، کہ ایک دفعہ نامور عالم دین بلکہ ایک شیخ العالم نے دن دیہاڑے رمضان المبارک میں صحافیوں کو چائے کی دعوت دے دی تھی، یہ بھی قیامت کی نشانی نہیں، کہ تحریک انصاف کے دورمیں حصول انصاف کیلئے سائل عدالتوں کے سامنے خودکشیاں کرنا شروع ہو جائیں، سابق باریش صدر پاکستان جمعے کی چھٹی اس لیے بحال نہ کراسکے کہ کہیں ان کی اپنی ہی چھٹی نہ کرادی جائے۔ 

 وزراء اور حکومت، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرکے اور صدر مشرف ، امریکہ کے کہنے پر ان سے سرعام میڈیا پر بم بنانے پر معافی مانگ لیں، اب دانستہ میں نے باتوں کا رخ موڑتے ہوئے کہا کہ حمزہ قیامت کی ایک نشانی بھی میرے ذہن میں ہے، تمہاری بیوی شکیلہ جو ہمارے ہاں کچن میں کام کرتی ہے، یہ سنتے ہی وہ پریشانی کے عالم میں بولا، سر کیا بات ہے، میں بولا کہ اس گزرے ہوئے ماہ رمضان میں ایک ماہ میں آدھ من گھی استعمال کرکے قیامت کے علاوہ کس عذاب کو دعوت دی ہے۔ بیوی کا نام سنتے ہی وہ ذاتیات پہ اتر آیا، بولا صرف دس جماعتیں پڑھ کر ملک کا مشہور اور مقبول کالم نویس، اور صحافی بن جانا، اور ناتجربہ کاروں کا کالم لکھ لینا بھی قیامت کی نشانی نہیں، میں نے موقعے کی مناسبت بلکہ نزاکت کو بھانپتے ہوئے چیخ کر کہا کہ حمزہ بریک لگائو، حالانکہ مجھے کہنا یہ تھا کہ زبان بند کرو، اس نے یکدم بریک لگادی، … میں فوراً گاڑی سے اترگیا، حالانکہ میرا دفتر جہاں وہ مجھے چھوڑنے آیا تھا کوسوں دورتھا، دراصل غریبوں سے ’’متھا‘‘ لگانے والے کی یہی سزا ہونی چاہیے تھی… مگر میں یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا… کہ میں نے تو صرف ایک غریب سے متھا لگایا ہے، وہ بھی میرا ذاتی ملازم …حاکم وقت نے تو بیک وقت کروڑوں لوگوں سے متھا لگالیا ہے بقول حضرت علامہ اقبالؒ

کیا امامان سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ

 سب کودیوانہ بناسکتی ہے میری ایک ہو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ 

کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جوظالم وضو 

مصنف کے بارے میں