سائیکوپیتھی کا مریض دوسروں کیلئے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا

سائیکوپیتھی کا مریض دوسروں کیلئے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا

نیویارک: سائیکوپیتھی (Psychopathy)بظاہر تو ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں مبتلا آدمی دوسروں کے ساتھ میل جول سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے اور تنہائی پسند ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ بیماری مریض کو دوسروں کے لیے خطرناک بھی بنا سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تشخیص ان کی عادات اور روئیے سے کی جا سکتی ہے جو ایک ماہرنفسیات نے ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے بیان کر دی ہیں۔ ان کے ذریعے آپ بھی اپنے دوست احباب میں معلوم کر سکتے ہیں کہ کوئی اس خطرناک بیماری کا مریض تو نہیں ہے۔

مرد عورتوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ بڑا ہوتا ہے، سائنسدانوں نے ایسی بات کہہ دی جسے سن کر شاید بہت سے لوگ برا منا لیں

ڈاکٹر میکس پیمبرٹن کا کہنا ہے کہ ”اس مرض کا شکار آدمی نتائج کی پروا کیے بغیر خود کو کسی بھی خطرناک صورتحال سے دوچار کر لیتا ہے۔ بہت جلد کسی بھی چیز سے بیزار ہو جاتا ہے اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کوئی بھی کام طویل عرصے تک نہیں کر پاتا، اس کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے اور وہ بات بے بات جھگڑا کرتا ہے۔ کسی دوسرے کی پروا نہیں کرتا، ہر ایک سے انتہائی سردمہری اور بے جذباتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ہمیشہ اپنی مرضی کرتا ہے اور اپنی ضروریات کو دوسروں کی ضروریات پر ترجیح دیتا ہے۔ اوردوسروں پر تشدد سے بھی باز نہیں آتا۔ جس شخص میں یہ عادات ہوں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ سائیکوپیتھ ہے اور اس کا علاج کروانے کی سعی کرنی چاہیے۔“

مصنف کے بارے میں