لاہور: اداکاراﺅں کے بے شمار پرستار ہوتے ہیں جوانہیں خطوط بھی لکھتے ، تحفے تحائف بھی بھیجتے ہیں ۔وہ ان کے ساتھ تصاویر اتروانے ،آٹو گراف لینے اور ان کے ساتھ چند لمحات گزارنے کے بے حدخواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک پرستار کویت کاایک بزنس مین معظم علی بھی تھا جوماضی کی مقبول اداکارہ دیبا کو کویت سے خطوط اور تحائف بھیجتا تھا۔

قیمتی تحائف تعداد اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ دیبا اسکے خلوص اور چاہت سے متاثر ہونے لگیں۔ کچھ عرصہ بعد معظم علی پاکستان آیا تو اس کے ساتھ تحائف سے بھرے ہوئے سوٹ کیس تھے۔ جو اسنے دیبا کے قدموں میں رکھ دئےے ۔ دیبا نے اس سے متاثر ہو کر اسے اپنے گھر بطورمہمان ٹھہرایا اور دونوں میں عہد و پیماں ہونے لگے ۔ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے۔

کچھ دنوں بعد معظم علی واپس کویت چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد اداکار حبیب نے ایک فلم پردیس بنانے کا اعلان کیا جس میں دیبا کو بطور ہیروئن کاسٹ کیا۔ جبکہ ہدایت کار ثقلین رضوی تھے۔ کہانی کی ضرورت کے تحت فلم کی شوٹنگ لندن میں ہونا طے پائی۔ جب یہ بات دیبا کے علم میں آئی اس نے پروگرام بنایا کہ لندن جاتے ہوئے چند دن معظم علی کے پاس قیام کریگی۔

دیبا کی یہ خواہش فلمساز حبیب نے مان لی۔ جب دیبا کویت پہنچی تو وہ پہلے اپنے ایک عزیز کے گھر ٹھہری اور اسے معظم علی کا ایڈریس دیا۔ جس کے جواب میں معلوم ہواکہ معظم علی ایک عام درزی ہے اور کویت میں رہ کر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلئے محنت مزدوری کرتا ہے ۔

یہ سن کر دیبا کے خواب چکنا چورہوگئے ۔اسکا دماغ مآف ہوگیا ۔وہ معظم علی کواپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی رہی اور وہ کچھ اور نکلا ۔وہ اچانک معظم علی کی دکان پرپہنچ گئی اور اسکی دل بھر کر بے عزتی کی۔ معظم علی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ دیبا یوں اس کے پیچھے کویت چلی آئے گی۔اسکا بھی دل ٹوٹ گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔