سیئول: دنیا بھر  میں بہت زیادہ رش اور شور شرابے والے مقامات پر رہنے والے مردوں کے لیے ایک بری خبر ہے یہ شور شرابہ ان کی مردانہ قوت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

کورین ماہرین صحت کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے حال ہی میں جاری کردہ نتائج میں بتایا ہے کہ گھنی آبادی اور بہت زیاد رش والے مقامات پر زندگی گزارنے والے مرد حضرات بانجھ پن کا شکار ہوسکتے ہیں اور ان کی قوت باہ غیرمعمولی حد تک متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ غیرمعمولی طور پر گنجان آباد شہروں، قصبوں میں رہنے والے، شور شرابے والے مقامات پر کام کرنے والے اور سڑکوں پر جہاں بہت زیادہ رش رہتا ہو یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں شور و غل معمول کا حصہ ہو وہاں کے مردوں میں قوت باہ کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ رپورٹ حال ہی میں صحت بارے معلومات شائع کرنے والے سائنسی جریدہ ٴبولڈ اسکائیٴ میں شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے دوران20 سے 59 سال کی عمر کے 2 لاکھ 6 ہزار 492 افراد کی صحت کا مسلسل آٹھ سال تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مردوں کی قوت باہ کو متاثر کرنے والے دیگر عوامل عمر، آمدن، جسمانی ڈھانچہ، تمباکو نوشی اور رہائش وغیرہ کو بھی شامل کیا گیا۔

کوریا کی سیؤل یونیورسٹی کے محققین نے کہا کہ نیند کی قلت بھی مادہ منویہ میں بچے پیدا کرنے والے خلیات کو کم کردیتی ہے۔جامعہ سیول کے ایک ریسرچر جین یونگ مین نے کہا کہ مردوں میں بانجھ پن اب ایک معمول بن چکا ہے۔ اس کے دیگر عوامل میں شور شرابہ، طرز زندگی اور معیشت کلیدی اسباب ہیں۔

خیال رہے کہ ماضی میں سامنے آنے والی تحقیقات میں بھی بچوں کی پیدائش کے مسائل بالخصوص قبل از وقت ولادت، بچوں کے ضائع ہونے یا عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش میں شور شرابے کا گہرا عمل دخل بتایا جاتا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں