وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے احتساب کے بعدسابقہ حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے: سراج الحق

وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے احتساب کے بعدسابقہ حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے: سراج الحق

لاہور :  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن میں سر سے پائوں تک لتھڑے ہوئے بہت سے لوگ سیاسی وفاداریاں بدل کر نئی پناہ گاہوں میں اپنی جگہ بنارہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کوایسی جرأ ت نہ ہو ۔ قوم ڈاکوئوں کے ٹولے کو بھاگنے اور چھپنے کا موقع نہیں دے گی۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی صدار ت میں منصورہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، نائب امراء حافظ محمد ادریس ،راشد نسیم ،میاں محمد اسلم ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم ،ڈپٹی سیکرٹری اظہر اقبال حسن ،محمد اصغر ،حافظ ساجد انوراور ڈائریکٹر امور خارجہ عبد الغفار عزیز نے شرکت کی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وقت قوم کے سامنے اہم ترین مسئلہ بیرونی بینکوں میں پڑی ہوئی پاکستانی دولت کی واپسی کا ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ لٹیروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ ان سے چوری کی گئی دولت بھی واپس لی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مال مسروقہ واپس نہیں ملتا تو نا صرف احتساب کا عمل ادھورا رہے گا بلکہ قوم کے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوٹی گئی قومی دولت واپس لا کر قوم کو قرضوں کے چنگل سے نکالا جائے اور عوام کو تعلیم، صحت، چھت اور روز گار جیسی بنیادی ضرورتیں مہیا  کی جائیں۔

سینیٹر سراج الحق نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ الیکشن 2018سے قبل انتخابی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے اور نئی مردم شماری کے مطابق ووٹر لسٹیں بنائی جائیں تاکہ ملک بھر میں وہ لاکھوں نوجوان جو پہلی بار رجسٹر ڈ ہوئے ہیں انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ  کرپٹ اشرافیہ اور نام نہاد  قومی نمائندوں کو قوم اچھی طرح پہچان چکی ہے ۔وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے احتساب کے بعدسابقہ حکمرانوں سمیت سب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور لوٹی گئی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے ۔اقتدار کے ایوانوں میں لٹیروں کا داخلہ روکنے کیلئے فوری طور پر انتخابی اصلاحات کی جائیں اور نئی مردم شماری کے مطابق ووٹر لسٹیں ترتیب دی جائیں ۔

نیوویب ڈیسک< News Source