پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ، غیرجانبدار ماہرین کو معاونت کیلئے بلانے کا حکم

12:02 PM, 5 Jul, 2018

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پھر بڑھا دی ہیں اضافے کا جواز پیش کریں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ حکام مل بیٹھیں تو آج پیٹرول کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کا کیا جواز ہے؟۔ قوم پہلے ہی پسی ہوئی ہے اور عوام پر بوجھ نہ ڈالیں۔

مزید پڑھیں: فیصلہ موخر کرنے کیلئے نواز شریف نے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ ڈالر کا ریٹ بڑھنا ہے اور عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمت بڑھی ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے قرار دیا کہ پٹرول پر 30 روپے سے زیادہ ٹیکس اور دیگر واجبات ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس انداز سے ٹیکس اکٹھا کرنا ٹیکس حکام کی ناکامی ہے۔

 

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ پاکستان کا سیلز ٹیکس جرمنی سے کم ہے اور بھارت میں بھی ٹیکس پاکستان سے زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جرمنی اپنی عوام کو جو سہولیات دے رہا ہے وہ بھی دیں۔ بھارت میں لوگ اس طرح نہیں بلک رہے اور مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام کو پیٹ کاٹنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواب آف بہاولپور کا مجلس عمل کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان

سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم کرنے سے متعلق حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت اتوار تک ملتوی کر دی۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

مزیدخبریں