شہباز شریف سوات میں ریلی منعقد نہ کر کے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روک سکتے تھے: اسد عمر

شہباز شریف سوات میں ریلی منعقد نہ کر کے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روک سکتے تھے: اسد عمر
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کے خطرے کو نظر انداز کرتے ہوئے سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے عوامی جلسے کے انعقاد پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف پر کڑی تنقید کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے حیرت انگیز چیزوں کے بارے میں لیکچر دیا کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو کورونا وائرس کو روک دیتے، حالانکہ شہباز شریف جو کم سے کم کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ ہزاروں لوگوں کے ساتھ سوات میں جلسہ نہ کرتے ، کیا شہباز شریف صرف اقتدار میں رہ کر ہی مثبت کام کرسکتے ہیں؟

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کی مرکزی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت مخالف اتحاد کو دوبارہ بحال کیا ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے استعفیٰ کے معاملے میں اتحاد سے اپریل میں علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ سوات میں ہونے والی پی ڈی ایم کی ریلی سے خطاب کے دوران شہباز شریف شہباز نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کا الزام حکومتی پالیسی پر عائد کیا۔ 

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا تو جولائی میں وبا کی چوتھی لہر متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر سنجیدگی سے عمل نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو چوتھی لہر کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے 9 جون کو متعدد فیصلے کئے تھے جن میں 15 جون سے پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ این سی او سی نے سرکاری ملازمین کے ویکسین لگوانے کی حتمی تاریخ 30 جون مقرر کی تھی جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے واک ان ویکسی نیشن کی سہولت 11 جون سے شروع کی گئی تھی اور ویکسی نیشن مراکز کے اوقات کار کو صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک کر دیا گیا تھا۔