پنجاب: ضمنی انتخاب میں کس کی جیت ممکن !

پنجاب: ضمنی انتخاب میں کس کی جیت ممکن !

اس وقت پنجاب میں جو آئینی و سیاسی بحران چل رہا ہے ، اْس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ کہیں فریقین کے درمیان تصفیہ کرانے کے لیے عدالت عالیہ میدان میں ہے تو کہیں عدالت عظمیٰ سے فریقین رہنمائی لے رہے ہیں۔صوبائی کابینہ کی تشکیل ہو یا بجٹ کی منظوری ہر سطح پر ایک نئے آئینی و سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ مگر مجال ہے کہ عوام کو کہیں سیاسی استحکام نظر آنے کی اْمید ہو۔ اْمید ابھی شاید اس لیے بھی نہیں ہے کیوں کہ جولائی کا مہینہ پنجاب کے لیے خاصا اہمیت کا حامل ہے ، پنجاب میں ہر طرف جنرل الیکشن والا ماحول بنا ہوا ہے۔ اسی اثنا میں 17 جولائی2022 کو ڈی سیٹ اراکین اسمبلی کی نشستوں پر تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کی حمایت یافتہ جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ان نشستوں پر 2018ء کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیں تو 20 میں سے دس نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جو بعد ازاں تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔ ن لیگی حکمت عملی کے مطابق انہی امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں کو ٹکٹیں جاری کی گئیں جو 2018ء میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے بھی ان سیٹوں پر تگڑے اْمیدوار کھڑے کیے گئے ہیں۔ 

حالات یہ ہیں کہ اس وقت پنجاب کے ایوان میں حکومت ن لیگ و دیگر جماعتیں اور اپوزیشن تحریک انصاف و دیگر جماعتوں کی نشستیں کم و بیش برابر ہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ن لیگ کو معمولی سی برتری حاصل ہے تو اس میں کوئی دورائے نہیں ہوں گی۔ لہٰذاضمنی انتخابات میں دونوں جماعتوں کی طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے گا اور ایک ایک سیٹ پر گھمسان کا رن پڑے گا۔ کیوں کہ ایک ایک جیتی ہوئی سیٹ پنجاب کی برتری میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔

 لہٰذااگر ہم ان نشستوں پرجہاں ضمنی انتخاب ہونا ہے وہاںکھڑے اْمیدواروں کے حوالے سے بات کریں تو ن لیگ کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے ، حکومتی حکمت عملی یعنی ن لیگ کے مطابق انہی امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی سے انحراف کر کے پی ڈی ایم امیدوار حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا ووٹ دیا تھا اور الیکشن کمیشن نے فلور کراسنگ پر انہیں ڈی سیٹ کیا تھا۔ مثلاً پی پی 7 راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن اسمبلی راجہ صغیر ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) شبیر اعوان ہوں گے، جنہوں نے 2011 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پی پی 83 خوشاب میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک غلام رسول کے 

بھائی امیر حیدر سنگھا ن لیگ کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل ایم این اے عمر اسلم کے چھوٹے بھائی حسن اسلم سیاسی اکھاڑے میں اتریں گے۔ حسن اسلم پہلی بار انتخابی سیاست کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔پی پی 90 بھکر میں تحریک انصاف کے منحرف رکن اسمبلی سعید اکبر خان نوانی ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلے میں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری عرفان اللہ نیازی کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ عرفان اللہ نیازی کے بڑے بھائی مرحوم نجیب اللہ خان اور دوسرے بھائی انعام اللہ خان دونوں ن لیگ کے کے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔پی پی97 فیصل آباد میں سابق صوبائی وزیر محمد اجمل چیمہ ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ان کے مدمقابل سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی کے صاحبزادے علی افضل ساہی ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔پی پی 125 جھنگ میں پی ٹی آئی کے منحرف امیدوار فیصل حیات جبوانہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے یہاں 2018 انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر میاں محمد اعظم چیلہ کو ایک بار پھر انتخابی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی پی127 جھنگ میں منحرف سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر محمد اسلم بھروانہ کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے 2018 انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر مہر محمد نواز بھروانہ کو ہی ن لیگ کے مدمقابل اتارا ہے۔ پی پی 140 شیخوپورہ میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن میاں خالد محمود ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے خرم شہزاد ورک ہیں، جو وکلا کی سیاست میں سرگرم اور ضلعی بار کے صدر ہیں۔

پی پی 158 لاہور میں عبد العلیم خان نے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی مگر ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو ن لیگ ٹکٹ جاری کرے گی جبکہ پی ٹی آئی نے میاں محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔پی پی 167 لاہور میں تحریک انصاف کے منحرف رکن نذیر احمد چوہان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے شبیر گجر ہوں گے۔ پی پی 168 لاہور میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک اسد علی کھوکھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ تحریک انصاف نے ملک نواز اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی پی 170 لاہور میں مسلم لیگ ن نے ترین گروپ کے نامزد امیدوار عون چوہدری کے بھائی محمد امین ذوالقرنین کو ٹکٹ جاری کیا ہے اور ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ابھی تک کسی امیدوار کا نام فائنل نہیں کیا۔ پی پی 202 ساہیوال میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک نعمان لنگڑیال ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے میجر(ر) غلام سرور کو ٹکٹ دیا ہے۔پی پی 217 ملتان میں پی ٹی آئی کے منحرف ایم پی اے محمد سلیمان نعیم ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ان کے مدمقابل سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے ایم این اے زین قریشی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔پی پی 224 لودھراں میں تحریک انصاف کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی زوار حسین وڑائچ، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ن لیگ کے 2018 کے انتخاب کے ٹکٹ ہولڈر عامر اقبال شاہ کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔پی پی 228 لودھراں میں منحرف رکن اسمبلی نذیر احمد بلوچ ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتریں گے۔پی پی 237 بہاولنگر میں منحرف سابق رکن اسمبلی فدا حسین مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے آفتاب محمود، سردار محمد اقبال اور سید افتاب رضا کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔ پی پی 272 مظفر گڑھ میں رکن قومی اسمبلی باسط سلطان بخاری کی اہلیہ زہرہ باسط سلطان بخاری مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے مدمقابل سابق رکن قومی اسمبلی محمد معظم علی جتوئی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر امیدوار ہوں گے۔ پی پی 273 مظفر گڑھ میں منحرف سابق رکن اسمبلی محمد سبطین رضا مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے، جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار یاسر عرفات خان جتوئی ہوں گے۔ پی پی 288 ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ ن کے سابق ضلعی ناظم اور موجودہ ایم این اے امجد فاروق خان کھوسہ کے صاحبزادے عبد القادر خان کھوسہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار سیف الدین کھوسہ ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ حکومتی اْمیدواروں کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان 20سیٹوں میں سے کم از کم 15سے 16سیٹوں پر ن لیگ کامیاب ہوگی، کیوں کہ ایک تو ن لیگ کو ضمنی انتخاب لڑنے کا خاصا تجربہ ہے، دوسرا اس کی پوزیشن مضبوط ہے جبکہ تیسرا اس وقت شاید 5سے 10فیصد چانسز ہیں کہ ان انتخابات میں سرکاری مشینری بھی استعمال ہو جائے۔ لہٰذا انتخابی عمل جمہوریت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔اور یہ ایک اچھی بھی روایت ہے، جسے خوش اسلوبی سے قائم رکھنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس اچھی روایت کو خوش اسلوبی سے سرانجام تک پہنچنا چاہیے ناکہ ہنگامہ آرائی اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے یرغمال بنا لیا جائے!

مصنف کے بارے میں