کراچی: مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو دھمکی آمیز تقریر مہنگی پڑ گئی۔ نہال ہاشمی کے خلاف کراچی میں بہادر آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ اٹارنی جنرل کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق نہال ہاشمی نے عدلیہ کے خلاف دھمکی تضحیک آمیز الفاظ استعمال کئے۔

عدلیہ کے فرائض منصبی کو نقصان پہننے اور عدلیہ کی توہین کی۔ اپنی تقریر میں عدلیہ اور سرکاری تحقیقاتی ادروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور عوام میں عدلیہ کے خلاف نفرت انگیز جذبات پیدا کئے۔

یاد رہے گزشتہ دنوں نہال ہاشمی نے شریف خاندان سے حساب لینے والوں پر پاکستان کی زمین تنگ کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تقریر کا وزیراعظم نواز شریف نے نوٹس لے لیا تھا جبکہ نہال ہاشمی کی بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔

 

بعد ازاں نہال ہاشمی نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کی سینیٹ سیکریٹریٹ نے بھی تصدیق کر دی تھی۔

 

یکم جون کو سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کے بیان سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی۔ عدالت نے نہال ہاشمی کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پیر تک جواب طلب کیا۔ نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اٹارنی جنرل پراسیکیوٹر مقرر کر دئیے گئے تھے۔

سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریماکس دیئے کہ ان کی آواز میں کوئی اور بول رہا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھ کہ ہم نے ملٹری ڈکٹیڑ شپ کا سامنا کیا مگر انہوں نے بھی ہمارے بچوں کو دھمکیاں نہیں دیں ۔ جے آئی ٹی ہم نے بنائی ہم نے رجسٹرار کو کہا تھا ان افراد کو جے آئی ٹی کا ممبر بنائیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں