مشال کے قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے: والد کا مطالبہ

پشاور: عبدالولی خان یونیورسٹی کے جاں بحق طالبعلم مشال کے والد اقبال خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا میرے بیٹے کو بے دردی سے بدترین دہشتگردی کر کے شہید کیا گیا اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ طلبہ کی فیسوں میں اضافے کی مخالفت کی تھی۔

مشال نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے چوروں کو چور کہا تھا جس کی سزا اسے یہ الزام لگا کر دی گئی کہ اس نے توہین رسالت کی ہے۔ اقبال خان نے انکوائری میں ثابت ہوا ہے کہ میرے بیٹے نے کوئی مذہبی جرم نہیں کیا تھا اور انہوں نے مشال قتل کیس کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

 

یاد رہے گزشتہ روز مشال خان قتل کیس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کے الزام میں 23 سالہ طالب علم مشعال خان کو تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

 

اس واقعے کے بعد 15 اپریل کو وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے مشال کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کے لیے سمری پر دستخط کر کے باقاعدہ منظوری دی تھی جبکہ اگلے روز یعنی 15 اپریل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مشال خان کی موت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں