جیل کے قیدیوں کو قانون پسند شہری بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے، سردار مسعود خان

راولاکوٹ: صدر آزا د جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جیل کے قیدیوں کو قانون پسند شہری بنانے کے لیے جیل اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ راولاکوت جیل میں قیدیوں کے لیے سہولیات ناکافی ہیں۔ کسی دانستہ وغیر دانستہ جرم کے نتیجے میں جیل پہنچنے والے بھی انسان ہیں۔ کم عمر قیدیوں کو پڑھانے کا بندوبست ہونا چاہیے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز راولاکوٹ جیل میں قیدیوں کی بارکوں میں جا کر فرداً فرداً اُن کے جرائم اور نام پوچھا ۔ قیدیوں نے صدر آزاد کشمیر کو مسائل سے آگاہ کیا ۔ اور شکایت کی کہ جیل بہت تنگ ہے ۔ جس میں 40 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے ۔ جبکہ 70 سے زیادہ قیدی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راولاکوٹ میں نئی جیل کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے ۔ اس کے علاوہ بیمار قیدیوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے گارڈ فراہم نہیں کی جاتی ۔ اگر گارڈ مل بھی جائے تو ہسپتال میں ماہر ڈاکٹر سے چیک نہیں کرایا جاتا ۔ پاکستان میں 23 مارچ اور 14 اگست جو قیدیوں کو سزا میں جو رعایت ملتی ہے اس کا اطلاق ہم پر نہیں کیا جاتا ۔

قیدیوں نے مطالبہ کیا کہ اپنے خاندانوں سے رابطے کے لیے ٹیلی فون کی سہولت فراہم کی جائے ۔ بعض قیدیوں نے شکایت کی کہ ہمارے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ لیکن وہاں کئی کئی سال تک اُ ن کی سماعت ہی نہیں ہوتی ۔ ایک قیدی نے شکایت کی کہ اُسے ملٹری کورٹ سے ایک لاپرواہی کے مقدمے میں 7 سال کی سزا ہوئی تھی ۔ اور وہ اب تک 12 سال قید کاٹ چکا ہے ۔

مصنف کے بارے میں