پاکستان اوربھارت کے ڈی جی ایم اوزکے درمیان ہاٹ لائن پررابطہ، ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزیوں پربات چیت

راولپنڈی: پاکستانی ڈی جی ایم او  کا اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ سپیشل ہاٹ لائن پر رابطہ, ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزیوں پربات چیت کی گئی.

ترجمان پاک فوج کے مطابق پیر کے روز پاکستانی ڈی جی ایم او اور بھارتی ڈی جی ایم او کا رابطہ ہوا جس میں ایل او سی  کی حالیہ خلاف ورزیوں پربات چیت کی گئی, اس دوران بھارت پر یہ واضح کیا  گیا ہے کہ اس کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا.

پاکستانی ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ بھارتی فوج کی طرف سے ہونے والی سیز فائر  کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا, اس دوران پاکستانی ڈی جی ایم او   کی طرف سے بھارتی ڈی جی ایم او  کو بتایا گیا  کہ بھارتی فوج ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جسکے نتیجے میں یکم جون کو بٹل، ہاٹ سپرنگ اور جندروٹ سیکٹر  میں بھارتی فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد شہری شہید و  زخمی ہوئے ہیں.

ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب کو بتایا  کہ اگر انکے پاس دراندازی کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں صرف الزامات لگانا درست عمل نہیں, انکاکہنا تھا کہ پاک فوج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن معاہدے پر کار بند ہے تاہم بھارت کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کا دو ٹوک اور بروقت جواب دیا جائے گا.

ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ یکم جون کو بھارتی فائرنگ سے معصوم شہری شہید ہوئے۔ پاک فوج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر امن اور استحکام کے قیام کیلئے پرعزم ہے۔ میجر جنرل ساحر شمشاد نے بھارت کی جانب سے عام شہریوں کو شہید کرنے اور غلطی سے ایل او سی پار کرنے والوں کو در انداز قرار دینے کو انتہائی غیر پیشہ وارانہ حرکت قرار دیا۔

اس موقع پر بھارت کی جانب سے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگایا گیا جس کے جواب میں میجر جنرل ساحر شمشاد نے بھارت سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مصنف کے بارے میں