کوٹ لکھپت کے رہائشی انیق نذیر کی مبینہ طور پر نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی

کوٹ لکھپت کے رہائشی انیق نذیر کی مبینہ طور پر نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی
فوٹو بشکریہ فیس بک

لاہور : پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اقلیتوں کو اکثریت کے برابر حقوق دیے جاتے ہیں ، مسلم اکثریت رکھنے والے اس ملک میں دنیا کے کئی مذاہب  گوشہ نشین ہیں اور ہر کوئی مذہبی طور پر مکمل آزاد ہے۔ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی سے روکنے کیلئے یہاں ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا سب کیلئے لازم ہے لیکن کچھ شدت پسند عناصر ان قوانین کو خاندانی رنجش اور ذاتی عناد کیلئے استعمال کر کے اس ملک کے تمام مذاہب کیلئے ایک جیسا ہونے پر سوالیہ نشان چھوڑ دیتے ہیں۔


توہین رسالت کا قانون 295 سی اور 295 بی جنرل ضیاءالحق نے متعارف کروایا اور اس قانون کی آڑ میں کئی ناقص العقل لوگوں نے بے گناہ اقلیت کو نشانہ بنایا۔ جب سے یہ قانون بنا تب سے لے کر 2018 تک توہین رسالت کے 1400 کیس درج ہوئے۔کچھ ایسے کیس بھی سامنے آئے جو ہماری جگ ہنسائی کا موجب بنے،سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل بھی توہین رسالت کی آڑ میں کیے گئے اور آسیہ بی بی کو بھی توہین رسالت جیسے مقدس قانون کے پیچھے پھانسی دلوانے کا گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

حال ہی میں توہین رسالت کا ایک اور کیس سامنے سامنے آیا جس میں ذاتی دشمنی اور خاندانی رنجش کی بنا پر انیق نذیر ولد نذیر مسیح پر الزام لگایا گیا کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔ دسمبر 2017 میں انیق نذیر پر حملہ ہوا جس کے بعد وہ شدید زخمی ہوا، اسپتال داخل رہا، دونوں فریقین میں صلح ہو گئی لیکن ذاتی دشمنی اس وقت توہین رسالت جیسے مقدمے میں تبدیل ہوئی جب جون 2018 میں نذیر مسیح کے گھر پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ان کی چھوٹی بیٹی امبر نذیرکو گولی لگی جس  کے بعد زندگی کے بازی ہار گئی ۔

 انیق نذیر جو پیشے کے اعتبار سے ایک میل نرس ہے اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور اسپتال میں کام کرتا ہےجبکہ والد پیشے کے لحاظ سے ایک پاسٹر ہے جس کی بنیاد پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اول الذکر توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔

مارچ 2015 میں کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ یوحنا آباد پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،نومبر 2014 میں شمع مسیح اور ساجد مسیح کو زندہ جلا دیا گیا۔توہین رسالت کا مرتکب ہر اس سزا کا حق دار ہے جو ریاست نے مقرر کی ہوئی ہے لیکن ان افراد کا ماورائے عدالت قتل ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عام مسلمان مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔

کسی بھی شخص کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہی اس شخص کو زندہ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن کچھ شرپسند عناصر اس قانون کو ذاتی دشمنی کیلے استعمال کرتے ہیں جو سرا سر غلط ہے ،ایسے اقدامات ریاستی اداروں پر سوال اٹھتے ہیں۔