مددکا آپریشن یا تباہی

مددکا آپریشن یا تباہی

23فروری سے جاری روسی حملے کو یوکرائن مکمل طورپر پسپا نہیں کر سکااور حملہ آور فوجیں پیش قدمی کرتی جارہی ہیں مگرایسا بھی نہیں کہ مکمل طور پر قبضہ ہوگیاہے البتہ کچھ علاقوں جیسے خرسون سمیت کئی شہروں پر قبضہ ہو چکا ہے لیکن یہ مکمل نہیں ادھوری کامیابی ہے یہ ٹکرائو کب تک جاری رہتاہے حتمی طور پر کوئی بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں امریکہ ،کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے مالی امداد اور ہتھیاروں کی ترسیل سے جنگ کے طوالت پکڑنے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا دونوں ملک بیک وقت جھڑپوں اور مذاکرات میںمصروف ہیں لیکن میدان سے زیادہ یہ جنگ میڈیا پر لڑی جارہی ہے اسی لیے نقصان کی خبروں کی صداقت پر یقین کرنا مشکل ہے دونوں ملکوں کی نہ صرف افواج لڑ رہی ہیں بلکہ جارح سپاہ کے خلاف عام لوگ بھی ہتھیار اُٹھاچکے ہیں اِس لیے ایسے خدشات کوتقویت مل رہی ہے کہ یوکرائن شاید طویل عرصہ امن سے محروم رہے اگر ایسا ہوتا ہے تو دنیا میں مہنگائی کی نئی اور شدید لہر جنم لے گی پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 2011 کے بعد بلندترین سطح 119ڈالرفی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے امریکہ نے قیمتوں میں استحکام رکھنے کے لیے تیس ملین بیرل اضافی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے مگر خدشہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ناکافی ہو گااور دیگر ملکوں کو بھی پیداوارمیں اضافہ کر ناہوگا وگرنہ  ایسے ترقی پذیر ممالک جن کا زیادہ ترانحصارتیل کی درآمدات پر ہے درآمدی بل بڑھنے سے یہ کمزور معیشت ممالک بُری طرح متاثر ہوں گے جس سے یہ ممالک داخلی انتشار کا شکار ہو سکتے ہیں علاوہ ازیں یوکرائن جو تما م یورپی ممالک سے رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جوگندم کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں اور مشرقِ وسطیٰ اور یورپی یونین میں شامل کئی ملکوں کی گندم کی ضروریات پوری کرتا ہے ایک ایسے وقت میں جب گندم کی فصل کے تیار ہونے میں چند ہفتے باقی ہیں جنگ لگنے سے گندم کی فصل متاثرہوگی جس سے خوراک کا بحران شدیدہو سکتا ہے۔

یوکرائن پر حملے کو روسی صدر پوٹن حملہ نہیں بلکہ مددکے لیے آپریشن کا نام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آپریشن یوکرائن کے اُن لوگوں کی مدد کے لیے کیا جارہا ہے جن کو گزشتہ آٹھ برس سے منظم طور پر نسل کشی کا سامنا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر جن کا تعلق بھی روس سے ہے وہ بھی کم وبیش ایسے ہی خیالات کا اظہارکرتے اور روسی حملے کو سپیشل آپریشن کا نام دیکر جنگ کی ہولناکی کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ صدر پوٹن سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہوئے اِس آپریشن کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق قرار دیتے ہیں ایسے نرم الفاظ سے سفاکی اور تباہی کم نہیں ہوجاتی اور یہ کہ جنگ جیسی بھی ہو کسی حوالے سے بھی فائدہ مند نہیں ہوتی روسی حملے اور یوکرائن کی بے بسی سے دنیا کو جوغلط پیغام ملا ہے  وہ یہ ہے کہ دفاع پر توجہ دی جائے اب لامحالہ ہر ملک وسائل عوامی فلاح و بہبود پرخرچ کرنے کے بجائے ہتھیار خریدنے پر صرف کرے گا اور جوہری طاقت حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوجائے گی روس کی طرف سے2015 سے شامی حکمرانوں کی مدد کا آپریشن بھی جاری ہے بشارالاسد کی حکومت برقراررکھنے کے لیے روسی قیادت نے اپنی عسکری قابلیت کاخوب مظاہرہ کیا 

سکولوں ،ہسپتالوں،بازاروں سمیت ہر جگہ روسی جہازوں نے اندھا دھند بمباری سے شہرکھنڈرات میں تبدیل کر دیے اسی مدد سے ڈر کرہی شامی لوگ اپنے ملک سے ہجرت پر مجبور ہوئے روسی مدد سے شامی حکومت تو اب تک قائم ہے لیکن شامی مہاجرین دنیا بھر میں دربدر ہیں۔

مدد کے آپریشن سے یاد آیا کچھ ایسے ہی اِرادوں سے 1979میں روس نے افغانستان پر بھی چڑھائی کی اور پھر ناکامی کی ذلت اُٹھا کر رخصت ہوا جس سے امریکہ کو بھی یہ بہانہ ملا کہ وہ کسی بھی ملک کوتاراج کردے پہلے مدد کے نام پر افغانیوں پر چڑھ دوڑا پھر دودہائیوں کے بعدناکامی کی رسوائی سمیٹ کر واپس لوٹ گیا اِس مدد کا نتیجہ آج افغانستان بھوک و افلاس کی صورت میں بھگت رہا ہے جبکہ امریکہ کی اپنی معیشت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔

مدد کرنے کے فلسفے پر امریکی کارروائیاں کسی سے پوشیدہ نہیں دخل اندازی کے حوالے سے وہ روس سے چار قدم آگے ہے صدرصدام حسین کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی لیکن یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا الزام بے بنیاداور من گھڑت تھا مگر دنیا کو لاحق خطرہ کم کرنے کے نام پر مدد دیتے ہوئے عراقیوں کو بے دریغ نشانہ بنایا گیا خوشحال اور پُرامن ملک عراق آج امریکی مدد کی سزا غربت اور بدامنی کی صورت میں جھیل رہاہے۔

لیبیا کی ہونے والی مدد کے زخم بھی ہنوز تازہ ہیں2003 میں معمر قذافی نے امریکہ اور مغربی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایٹمی پروگرام اور کیمیائی ہتھیاروں کا سلسلہ یکطرفہ طورپر ختم کرنے کا اعلان کیاجس کا خیر مقدم کیا گیالیکن 2011میں جب عرب بہار کا اثر لیبیا تک جا پہنچا تو مدد کا آپریشن کرنے والے اِس انداز میں آدھمکے کہ قذافی کے حریفوں کو ہتھیار دیے اورسرکاری فوج پر فضائی بمباری کی پھر قذافی کی موت پر یہ کہہ کر خوشیاں منائیں کہ دنیا کو لاحق خطرہ کم کر دیا ہے لیکن اِس مدد کے گھائو ابھی تک رِس رہے اور اچھا بھلا خوشحال لیبیا آج بدامنی اور افراتفری کی آماجگاہ ہے۔

مدد کے آپریشن سے کسی ملک کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ تباہی ہوئی اور بربادی کے زخم لگے لیکن دنیاکا افغانستان ،عراق ،لیبیا ، شام کے باشندوں اور یوکرائنی شہریوں سے ایک جیسا سلوک نہیں بلکہ نسل پرستی اور تعصب پرمبنی ہے اوّل الذکر ممالک کے باشندوں کو بے دریغ ہلاک کرتے ہوئے جنھیںرتی بھر رحم نہیں آیا وہی ملک اب یوکرائن پر ہونے والے حملے پر چیخ چلا رہے ہیں یہ انصاف نہیں طاقتور ممالک کا مدد کی آڑ میں کمزورممالک پر چڑھ دوڑناایک غلط روایت ہے اگر طاقتور ممالک ذیلی ریاستیں بنانے کے حربے ترک کر دیں تو امن کاقیام یقینی بنایا جا سکتا ہے روسی فوجیں بھی بیلا روس کے راستے ہی یوکرائن میں داخل ہوئیں اگر مدد کے آپریشن میں بیلا روس ذیلی ریاست کی طرح تعاون نہ کرتا تو موجودہ صورتحال قطعی مختلف ہو تی۔

دنیا کو لاحق خطرات کا تدارک کرنے کے لیے عالمی تنظیمیں معرضِ وجود میں آئیں 28جولائی 1914کو شروع ہونے والی پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر ہی 10جنوری 1920کو لیگ آف نیشن بنی لیکن امن کو لاحق خطرات کم کرنے میں ناکامی پر 1939میں دوسری جنگِ عظیم کا آغازہواجس میں کروڑوں افراد لقمہ اجل بنے جنگوں کی یہ تباہ کاریاں روکنے کے لیے بڑے غوروخوض کے بعد 1945میں اقوامِ متحدہ کا اِدارہ قائم کیا گیا لیکن اِس ادارے سے بھی توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور نہ ہی امن کے اہداف حاصل کیے جا سکے ہیں بلکہ کوئی بھی بڑی طاقت جب چاہتی ہے کسی بھی کمزور ملک کو دبوچ لیتی ہے اگرمذہبی تعصب اور نسل پرستی کا مظاہرہ نہ کیا جاتا تو فلسطین ،کشمیر،بوسنیا اور برما جیسے قتلِ عام نہ ہوتے اقوامِ متحدہ اگر مزیدسُستی کا مظاہر ہ کرتی رہی تو طاقتور ممالک کمزور اقوام کو مدد کے نام پر آپریشن کا نشانہ بناتے رہیں گے اقوامِ متحدہ کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ویٹو پاورہے سلامتی کونسل میں اپنے خلاف پیش ہونے والی قراردادوں کو روس نے ویٹو سے ہی ناکام بنایا جنرل اسمبلی سے روسی حملے کے خلاف قرارداد پاس ضرورہوئی ہے مگر پوٹن نے اِس کا بھی کوئی اثر نہیں لیا اگر جنگوں کو روکنا ہے تو مدد کے نام پر آپریشن کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی اور مذہبی تعصب اور نسل پرستی پر مبنی پالیسیوں کو ترک کرنا ہوگا وگرنہ بنی نوح انسان کے لیے خطرات موجود رہیں گے روس و یوکرائن جنگ کو پھیلائو سے روکنے کے لیے امریکہ اور نیٹو نے فوج بھیجنے سے انکار کیا ہے مگریہ امن پسندی نہیں کمزوری ہے جب تک مدد کے نام پر آپریشن کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی اورکمزور ممالک کوتباہ کیا جاتا رہے گا تب تک پُرامن دنیا کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

مصنف کے بارے میں