افغان فورسز کی چمن میں بلااشتعال فائرنگ، 10 شہری شہید،41 زخمی

افغان فورسز کی چمن میں بلااشتعال فائرنگ، 10 شہری شہید،41 زخمی

چمن: بلوچستان کے سرحدی شہر چمن پر افغان فورسز کے حملے 10 افراد شہید اور 41 زخمی ہو گئے جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ شہید ہونیوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔


اس سے پہلے آئی ایس پی آر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا افغان بارڈر پولیس نے مردم شماری ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور ایف سی بلوچستان کے اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ 4 ایف سی اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔

 بیان میں مزید کہا گیا کہ 30 اپریل سے افغانستان کی سرحدی پولیس کلی لقمان اور کلی جہانگیر کے علاقوں میں پاکستانی سرحد کی جانب جاری مردم شماری کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ افغان انتظامیہ کو پیشگی اطلاع جبکہ مردم شماری کا عمل یقینی بنانے کے لیے سفارتی اور فوجی سطح پر تعاون اور روابط کے باجود بھی افغانستان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید پڑھیںمردم شماری کو ہر قیمت میں مکمل کیا جائیگا، آرمی چیف

حملے کے بعد پاک افغان سرحد پر موجود باب دوستی کو ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کر دیا گیا جبکہ سیکورٹی فورسز نے حملے سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو گاؤں خالی کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دیں۔

دوسری جانب چمن بارڈ سے ملحقہ پاکستانی آبادی پر افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا۔ افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سرحد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

یاد رہے 5 اپریل کو لاہور میں بیدیاں روڈ پر مردم شماری ٹیم پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوانوں اور ایک آف ڈیوٹی ایئر فورس اہلکار سمیت 6 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں