2018 میں شیر بند آنکھوں والے کبوتر اٹھا لے جائیگا: وزیراعظم

2018 میں شیر بند آنکھوں والے کبوتر اٹھا لے جائیگا: وزیراعظم

مظفر آباد: وزیراعظم نواز شریف کا نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا حکومت سنبھالی تو لوڈشیڈنگ عروج پر تھی اب روز الزام تراشی کی جا رہی ہے اور ملک کو تباہ کرنے والے روز ٹی وی پر آ رہے ہیں۔ اگر آپ بدزبانی سے مجبور ہیں تو ضرور اپنا شوق پورا کریں کیونکہ گالیاں نکالنے سے آپ کو خود نقصان ہو رہا ہے۔


انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہم سنجیدگی سے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ہم کام نہ کرتے تو اگلے 20 سالوں تک توانائی کے منصوبے مکمل نہ ہوتے۔ جن منصوبوں سے لوگوں کو فائدہ ہو گا اس میں روکاوٹ نہ ڈالیں۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ چھوڑ کر جانے والے اب احتجاج کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں 2012 میں باتیں ہو رہی تھیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا لیکن اللہ کے کرم سے آج پاکستان کی معاشی ترقی کی دنیا بھر میں تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

2012 میں کرپشن، دہشتگردی، لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پاکستان کہاں تھا اور آج کہاں ہے انشااللہ 2018 میں شیر بند آنکھوں والے کبوتر اٹھا لے جائے گا۔ ہم گالیوں کی سیاست میں الجھ جاتے تو ہمارا آپ جیسا حشر ہوتا اور مخالفین دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن آنکھیں کھول کر تو دیکھیں ہماری حکومت نے پاکستان کی ترقی کے لئے اب تک کیا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی صنعتوں کا پہیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بتایا پہاڑوں کے اندر 68 کلو میٹر سرنگ بنانا عجوبے سے کم نہیں اور نیلم جہلم پروجیکٹ 969 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ ایک نیاپاکستان تعمیرہورہا ہے اور پہلی مرتبہ کراچی سے خنجراب تک موٹرویز بن رہی ہیں۔

وزیراعظم نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جس کو مینڈیٹ ملتا ہے اس کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ دھرنے دیے جاتے ہیں اور انتخابات سے متعلق فیصلہ آیا تو ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ دھرنے دے کر ان لوگوں نے ملک کا وقت ضائع کیا جس کی وجہ سے آٹھ یا دس ماہ سی پیک کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں