معاشی مشکلات کے شکار پاکستان کو دوست ملک چین سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے

معاشی مشکلات کے شکار پاکستان کو دوست ملک چین سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے
image by facebook

کراچی: معاشی مشکلات کے شکار پاکستان کو دوست ملک چین سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے اور دس ماہ بعد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں پہلا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔


تفصیلات کے مطابق ملک پر قرضوں کا بوجھ اور غیر ملکی زرمبادلہ میں کمی کے باعث پاکستان نے دوست ملک چین سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ لے لیا، یہ رقم انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا سے لی گئی ہے۔

دس ماہ سے پاکستان کے مسلسل گرتے ڈالر ذخائر میں یہ پہلا اضافہ ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 58 کروڑ 23 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا اور پاکستان کے ڈالر ڈپازٹس کا مالی حجم 17 ارب 71 کروڑ ڈالر ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ڈالر ذخائر مسلسل کم ہونے سے ادائیگیوں کا توازن بگڑتا جارہا تھا جبکہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث سو دن میں روپے کی قدر 10 فیصد گرائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودیہ عرب اور خلیجی ممالک سے جون میں دو ارب ڈالر ملنے کے روشن امکانات ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا سے کمرشل لون کی مد میں ایک ارب ڈالر اپریل کے آخر میں موصول ہوگئے ہیں، بیس اپریل کو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح پر آگئے تھے۔

اعلیٰ حکام کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس صرف دس ارب ستر کروڑ ڈالر کا ذخیرہ بچا تھا، جو ڈھائی ماہ کی درآمدات کیلئے بھی ناکافی تھا جبکہ بینکوں کے پاس موجود 6 ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر کھاتے داروں کے ہیں، جنھیں اسٹیٹ بینک مجموعی ڈالر ذخائر میں شامل کرکے دکھاتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی رزمبادلہ ذخائر میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔ زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لیے غیر ملکی مہنگے قرضوں کا حصول ناگزیر ہے۔

اس سے قبل بھی گزشتہ تین ماہ میں حکومت نے چینی بینکوں سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔خیال رہے کہ نوازحکومت نے تین برس میں پچیس ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے ہیں، ساڑھے چار ارب ڈالر کے بانڈز بھی فروخت کئے جاچکے ہیں۔