فاروق ستار نے پیپلزپارٹی کو پاپا ، پھپھو ، پپو پارٹی قرار دے دیا

فاروق ستار نے پیپلزپارٹی کو پاپا ، پھپھو ، پپو پارٹی قرار دے دیا
image by screen shot

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان ںے لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں جلسے کا انعقاد کیا جس سے رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار خطاب کررہے ہیں۔


ایم کیو ایم رہنماؤں نے جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے لیاقت آباد کی گلیوں پرقبضہ کرکے جلسہ کیا، اب کہتے ہیں گلشن اقبال میں جلسہ کریں گے۔

29 اپریل کو ٹنکی گراؤنڈ جلسے میں بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو مستقل قومی مصیبت  قرار دیا تھا جس کا جواب فاروق ستار نے پی پی پی کو (پاپا، پھپھو اور پپو) پارٹی قرار دے کر دیا۔

خواجہ اظہار نے کہا کہ تم ہر جگہ جلسے کرو تمھیں دوڑا دوڑا کر ماریں گے، عامر خان بولے کہ  پیرا شوٹر پارٹی دنیا کی واحد پارٹی ہے جس نے ایک بھی الیکشن نہیں لڑا لیکن اس کے 17 ایم پی اے ہیں، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک ہوجانا کافی نہیں ہے نیک ہونا بھی لازمی ہے جبکہ فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کو پاپا، پھپھو، پپو پارٹی قرار دے دیا۔

اپنے خطاب میں فاروق ستار نے کہا کہ دس سال سے بولنگ کرا رہے تھے، اب بیٹنگ کا وقت آیا ہے، سرسوں کا تیل لگا کر بیٹ کا اسٹروک نکالنا ہے۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہمیں پاپا، پھپھو اور پپو پارٹی نے للکارا ہے، ہاری آج بھی وہ زندگی گزار رہا ہے جو 10 سال پہلے گزار رہا تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ’آج کا لیاقت آباد کا جلسہ ٹریلر ہے، ابھی پوری فلم باقی ہے،کراچی کاحساب میئر وسیم اختر کے ساتھ کھڑا ہوکر میں دوں گا , رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ہمارے نمائندوں کودوسرےکیمپوں میں لے جایا گیا، ہمیں مردم شماری میں آدھا گنا گیا،ہماری خواتین کو گِنا ہی نہیں گیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ مائنس سربراہ نہیں بلکہ مائنس ایم کیوایم سازش ہورہی ہے , انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کا ووٹ بینک کل بھی ایک تھا،کل بھی ایک ہوگا، ظلم کی چکی میں سندھ میں رہنے والے پس رہے ہیں، ہم نے23 اگست کو پارٹی کو بچایا تھا، 40سال کی محنت کو بچایا، کتنا بڑا حادثہ، لڑائی یا اختلاف ہو، ایم کیو ایم کا ووٹ بینک رہنماؤں کو الگ نہیں ہونے دے گا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ’جو کہتے تھے ایم کیوایم کے حصے بخرے ہوگئے وہ آکر دیکھ لیں , ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کے حوالے سے فاروق ستار نے کہا کہ  جتنے اراکین اسمبلی چلے گئے میں انہیں غدار نہیں کہتا، ایم کیو ایم میں کسی کو غدار نہیں کہا جائے گا،آج کے بعد ریورس گیئر لگ گیا ہے،جتنے ایم کیو ایم سے گئے اس سےزیادہ واپس آئیں گے۔

پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ معاف کرو، بتائیں،لاڑکانہ کو کتنی ترقی دی، وڈیروں اور جاگیرداروں کی مسلط کی گئی سلطنت کو خیر باد کہیں، تم نفرتوں کے بیج بوگے ہم ان درختوں پر محبتوں کے پھول اگائیں گے‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ ’راؤ انوار کا چالان بھی عدالت میں آنے والا ہے، راؤ انوار کے بیانات بھی آنے والے ہیں، آصف زرداری نے راؤ انوار کی پیٹھ تھپکی تھی بہادر بچہ کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’عزیر بلوچ کے بیانات بھی عدالتوں میں جائیں گے، ہم پر اور ہمارے بچوں پر ہونے والے ظلم کا بھی انصاف ہوگا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ’اردو زبان کو تم مٹانے کی کوشش کرو اور لسانیت کا الزام ہم پر لگاتے ہو , ایم کیو ایم بہادرآباد اور پی آئی بی کے متعدد  رہنما اسٹیج پر موجود رہے جبکہ ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کی وجہ بننے والے کامران ٹیسوری اسٹیج پر نہیں بلکہ مجمع میں کارکنوں کے درمیان بیٹھے۔

ایم کیو ایم پاکستان بہادرآباد گروپ کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کا جلسہ منشور کے اعلان کیلئے نہیں جذبات کےاظہار کیلئے  ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ماضی میں قومیانے کے نام پر جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا، پیپلزپارٹی کےجلسےکا خیر مقدم کیا کہ شایدکوئی اعلان ہوجائے لیکن پیپلزپارٹی والوں نے جلسے میں صرف نفرتیں نکالیں۔

انہوں نے کہا کہ عجیب جلسہ تھا کہ علاقہ مکینوں پر ہی کرفیو لگا دیا گیا لیکن لیاقت آباد والوں نے آج پھر ایم کیوایم کو بچالیا، سلام لیاقت آباد والوں پر جہاں آج بھی نظریہ پاکستان زندہ ہے۔خالد مقبول نے کہا کہ لیاقت آباد آمریت کے خلاف مزاحمت کا مرکز ہے، آپ نے کہا تھا ایک ہوجاؤ، ہم ایک ہیں، ایک ہوجانا کافی نہیں ہے نیک ہونا بھی لازمی ہے , انہوں نے کہا کہ ہم ایک اکائی ہیں، مقصد بھی ایک ہے اور راستہ بھی ایک ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما عامر خان نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ آج کا جلسہ یہ پیغام ہے کہ ایم کیو ایم ایک تھی اور ایک ہی رہے گی , انہوں نے کہا کہ میں مہاجر تھا، ہوں اور رہوں گا، کوئی مجھ سے میری شناخت نہیں چھین سکتا۔

عامر خان نے کہا کہ آج کاجلسہ پیغام دے رہا ہے کہ ایم کیو ایم ایک تھی اور ایک ہی رہےگی، ٹنکی گراؤنڈ کے جلسے نے ساری نوٹنکیوں کو جواب دے دیا , انہوں نے کہا کہ اس جلسے میں موجود ہر فرد ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ ہے، آج کے جلسے میں سندھی، بلوچی ،پنجابی، پختون سب ہیں, عامر خان نے کہا کہ پورے پاکستان کو جاگنا ہوگاورنہ جاگیردار عوام کاحق نہیں دیں گے۔

جلسے سے خطاب میں خواجہ اظہار الحسن نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کارباری افراد 20 ارب روپے دیتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے 20 ارب میں دو سڑکیں دیں ۔خواجہ اظہار نے کہا کہ بجٹ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 80 کروڑ روپے کی لاگت سے یونیورسٹی روڈ بنوائی، میں نے اسکیم نکالی تو اس میں سڑک سوا ارب میں بنانے کا لکھا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کے حوالے سے خواجہ اظہار نے کہا کہ ’شرارتی عناصر سعید غنی کوایم کیو ایم سے بڑی تکلیف ہے، انہیں ایم کیو ایم سے نہیں ایک ایک مہاجر سے تکلیف ہے، سعید غنی اپنی لیڈر شپ کو کہہ رہے ہیں 20 سیٹیں جیتیں گے ، سعید غنی تمھیں ایم کیو ایم کا ایک کارکن ہرائے گا‘۔

میئر کراچی وسیم اختر نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ ’بلاول نے کہا میئر کے پاس تمام اختیارات ہیں، بلاول اس وقت سیکھ رہا ہے، اسے حقائق معلوم نہیں، بلاول کو پوائنٹس دیئے جائیں اسے سکھایا جائے , وسیم اختر نے مزید کہا کہ ’بلاول کو سکھانے والے حقیقت سے آگاہ نہیں کرتے، بلاول کو مستقبل کا وزیر بنانے کا خواب دکھایا جارہا ہے، انہیں بلدیات کے محکمے کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ سندھ 40 سال سے پیپلز پارٹی سے روٹی، کپڑا اور مکان کا پوچھ رہا ہے، پورا سندھ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے اور اب یہ کراچی کو کھنڈرات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔وسیم اختر نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کو وزیر بلدیات چلا رہا ہے جو یہاں سے منتخب نہیں ہوا، ان کو کیا پتا کہ کراچی کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟اب تو پالیسی بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بنا رہی ہے۔

میئر کراچی نے مزید کہا کہ بلاول نے تقریر کی لیکن کوئی نیشنل پالیسی نہیں دی، وزیر اعلیٰ اندرون سندھ سے منتخب ہو کر یہاں حکمرانی کررہے ہیں، عدالت سوال کر رہی ہے صاف پانی کیوں نہیں فراہم کیا جارہا، عدالت نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ تک اپنے پاس رکھ لیا ہے , وسیم اختر نے کہا کہ ٹنکی گراؤنڈ کا نام تبدیل کرکے شہدائے اردو رکھیں گے۔