کون جیتا ، کون ہارا

کون جیتا ، کون ہارا

جو میدان میں فتح حاصل کرتا ہے مذاکرات کی میز پر بھی وہی کامیاب ہوتا ہے۔ کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پوری تفصیلات سامنے نہ بھی آئیں تب بھی آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس کی شرائط مانی جائیں گی اور کون سر جھکانے پر مجبور ہوگا ۔ اس بحث سے ہٹ کر کہ حالیہ مہم جوئی سے ملک و قوم کو کس اذیت اور نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔ یہ ماننا ہوگا کہ حرکت میں برکت ہے ۔ٹی ایل پی کے مارچ سے صورتحال اتنی تیزی سے تبدیل ہوئی کہ تقریباً ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر اپوزیشن جماعتوں اور آزاد منش ججوں کو برا بھلا کہنے کی ریاستی ڈیوٹی کرنے والے نام نہاد دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ر اعجاز اعوان کو جسٹس قاضی فائز عیسی یاد آگئے۔جج صاحب نے اسی تنظیم کے فیض آباد راولپنڈی میں دھرنے کے بارے میں ایک جامع اور جاندار فیصلہ دیا تھا اور قصور وار افراد کی نشاندہی بھی کردی تھی ۔ ریاست نے اس پر عمل کرنے کی بجائے الٹا جج صاحب پر ہی ہلہ بول دیا ۔خیر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مداخلت سے یہ ٹی ایل پی کا حالیہ احتجاج بھی نمٹ چکا ہے۔ اس سے پہلے معاملہ زیادہ بگڑنے لگا تو آرمی چیف نے مفتی منیب الرحمن ، مولانا بشیر فاروقی اور بڑی کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کو کراچی سے راولپنڈی بلایا ۔پھر معاہدہ طے پا گیا ۔ معاملات اب عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں ۔ اس سے پہلے جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ لاہور کی ملتان روڈ پر کچھ دنوں سے سعد رضوی کی رہائی کے لیے کارکنوں کی مختصر تعداد پرامن احتجاج کررہی تھی ۔سڑک پر ٹریفک بھی رواں دواں رہی۔ 12 ربیع الاول کو جب ملک بھر میں میلاد کے جلوس نکالے جارہے تھے ایسا ہی ایک جلوس یہاں سے بھی نکالا گیا ۔ اسی شام جلوس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اب مارچ اور دھرنا ہوگا ۔ یہ سنتے ہی انتظامیہ اور عام لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے کہ ایک بار پھر تصادم ہوگا ، حالات خراب ہو نگے ، راستے بند ہوں گے ۔ یہ پریشانی الگ سے تھی کہ نجانے پرتشدد احتجاج کا یہ سلسلہ کتنے دن تک جاری رہے گا ۔ حکومت نے اعلان کیا کہ مارچ کے شرکا کو کسی صورت لاہور سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ساتھ لاہور کو کنٹینروں کے قلعے میں تبدیل کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ۔ مارچ والے کرینوں سے لیس تھے سو جیسے ہی شرکا آگے بڑھے کنٹینر ہٹتے گئے ، آنسو گیس کی شیلنگ , شدید لاٹھی چارج اور پتھراو بے کار ثابت ہوا ، پولیس والے جان سے گئے مگر مارچ شہر سے باہر نکل آیا ۔ جی ٹی روڈ پر سادھوکی کے مقام پر اگلا معرکہ ہوا تو روکنے والوں کی دوڑیں لگ گئیں۔حکومت نے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید پہلے لاہور آکر جیل میں بند سعد رضوی سے ملے پھر اس قیدی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کرکے مذاکرات کیے گئے مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا ۔ وزیر اعظم عمران خان ، شیخ رشید اور دیگر وزرا کے لہجوں میں سختی آتی گئی اور کہا گیا کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ شیخ رشید کی طرح عمران خان کی باتوں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا ۔ پھر بھی نوٹ کیا گیا کہ اس دوران جی ٹی روڈ جگہ جگہ خندقیں کھود اور کنٹینر لگا کر بند کردی گئی۔ چناب اور جہلم کے پلوں پر دیواریں بنا دی گئیں۔ بالکل جنگ کا منظر تھا ۔پہلے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میںتینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے کالعدم تنظیم کے بھارت سے روابط کے شواہد پیش کیے ، شرکا نے قانون کی بالا دستی ہر صورت برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فضا میں شکوک کے بادل پھر بھی نہ چھٹ سکے۔ غیر یقینی کی اس صورتحال کو دور کرنے کے لیے ٹاپ ایجنسی کے سربراہ نے میڈیا مالکان اور مخصوص صحافیوں کو بریفنگ کے لیے مدعو کیا ۔ دو وفاقی وزرا شیخ رشید اور فواد چودھری بھی ساتھ تھے - اس موقع پر بتایا گیا کہ کسی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر ایک پیج میں اختلافات پیدا ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے ۔ٹی ایل پی کی تحریک کو عالمی سازش قرار دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ تنظیم عرب سپرنگ جیسا معاملہ چاہتی ہے اور ریاست کے لیے سکیورٹی رسک بن چکی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ ٹی ایل پی کو بھارت سے بھرپور مدد مل رہی ہے ۔ بریفنگ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا بس بہت ہوچکا ، احتجاج کرنے والوں کو ریاستی طاقت سے کچل کر رکھ دیں گے۔ میڈیا سے کہا گیا وہ اس گریٹ آپریشن کے حوالے سے تعاون کرے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس بریفنگ کی تفصیلات سامنے آئیں تو صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی واضح اکثریت نے ان باتوں اور مجوزہ لائن آف ایکشن محض زبانی جمع خرچ قرار دے ڈالا ۔ یہ سچ ہے کہ طاقت خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اسکے استعمال کا انحصار زمینی حقائق پر ہوتا ہے۔ کسی ادارے کو کیا پڑی کہ ایک انتہائی غیر مقبول حکومت کے لئے خون خرابہ کرکے ساری تنقید اور بدنامی کا رخ اپنی جانب موڑ لے ۔ حکومتی دھمکیوں کے حوالے سے بھی دو ریڈ لائنز رکھی گئی تھیں۔ روحانی شخصیت نے عمران خان کو بتایا تھا کہ مارچ کے شرکاء چناب کا پل پار کر گئے تو حکومت کو فارغ سمجھو ، ایجنسی کے سربراہ کا کہنا تھا جہلم کا پل سرخ لکیر ہے ۔ مارچ کے شرکا یہ سب تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے تھے کہ پھر سے مذاکرات شروع ہوگئے ۔ علماء و مشائخ کا ایک وفد بنی گالہ گیا تو وہاں موجود علامہ طاہر اشرفی اور فواد چودھری کو فی الفور باہر نکالنے کا مطالبہ کردیا ۔ ‘‘ مرد آہن ‘‘ عمران خان نے چوں تک نہ کی اور اپنے دونوں ساتھیوں کو آئوٹ کردیا ۔سنجیدہ مذاکرات شروع ہوئے تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر مملکت علی محمد خان کو آگے کرنا پڑا ۔مفتی منیب الرحمن جیسے باوقار اور محترم عالم دین کو کہنا پڑا کہ شیخ رشید اور فواد چودھری کو منہ کی بواسیر ہے سو ان کو ان معاملات سے دور رکھا جائے۔ اس طرح کے مسلسل واقعات سے پی ٹی آئی حکومت کی ساکھ کا کباڑا ہوگیا ۔ حکومت کی حرکتوں نے ایک پیج کے لیے بھی سبکی کے اسباب پیدا کردئیے ۔ عمران حکومت ہتھیار ڈال چکی ہے تو دوسری جانب کالعدم تنظیم نے بھی فرانسیسی سفارتخانے کی بندش اور سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔ ٹی ایل پی کے متعلق بہت مضبوط تاثر ہے کہ یہ مقتدر حلقوں کے کہنے پر ان کے مخالفین کے سیاسی اور جسمانی گھیرائو کی ڈیوٹی کرتی ہے۔ ملک کی اہم ترین مقتدر شخصیت کئی بار کہہ چکی ہے کہ اس تنظیم کو مرکزی دھارے کی سیاست میں لایا جائے ۔ ٹی ایل پی نے الیکشن کو 2018 کا بھی لڑا مگر اسے نمائندگی صرف سندھ اسمبلی میں مل سکی ۔ احتجاج کی حالیہ کارروائی کو نوٹیفکیشن کے معاملے کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ اسی لئے اپوزیشن جماعتوں نے اس دھماچوکڑی سے فاصلہ رکھا ۔ مفتی منیب الرحمن کے مطابق جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی نے یقین دھانی کرائی تھی کہ اگر مارچ کے شرکا کے خلاف خونی کریک ڈاؤن ہوا تو وہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دے دیں گے۔ بہر حال اس کی نوبت نہیں آئی ۔ بظاہر تو اس نئے مشن کی تکمیل میں فاتح ٹی ایل پی ہے مگر تشدد کے واقعات اور سپانسرڈ احتجاج کے تاثر سے اسے بھی نقصان پہنچا ، اس راؤنڈ کے نتیجے میں پولیس جیسا ظالم ، بے رحم ، بدعنوان اور نااہل محکمہ پورے ملک کی ہمدردیاں سمیٹ گیا ، فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے تحریری معاہدہ سے یو ٹرن نے عام لوگوں کو ہی نہیں تجزیہ کاروں کو بھی حیران کردیا ، اسٹیبلشمنٹ بھی نیک نامی نہ کما سکی ، کہا جارہا ہے کہ ریموٹ کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے، اور تو اور پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے دعووں کو بھی ‘‘ سیاسی دعووں ‘‘ کے طور پر لیا گیا۔ حکومت کی  یہ اکڑ نکل گئی کہ اسے لانے والے ہی ہر بار اسے بچائیں گے ، واضح ہوگیا پیج چاہیے ایک ہی رہے ، ضرورت کے مطابق کسی کو بھی رگڑا لگایا جاسکتا ہے۔ عدلیہ پہلے ایسے مواقع پر کسی حد تک حرکت میں آتی تھی مگر اس بار دبک کر بیٹھ گئی ، میڈیا کے ‘‘ محب وطن ‘‘ عناصر لوٹے بنے رہے کبھی کچھ , کبھی کچھ کہتے رہے جبکہ غیر جانبدار میڈیا از خود احتیاط برتتا رہا ، عوام کو اپوزیشن سے بھی گلہ ہے کہ ان کے جان ومال کو لاحق خطرات کے باوجود حزب اختلاف کی جماعتوں نے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا ، سو ٹی ایل پی کے احتجاج کے اس چھٹے راؤنڈ سے ریاست سمیت سب کو کچھ نہ کچھ نقصان ہی پہنچا، دیکھنا اب یہ ہے کہ ٹی ایل پی اگلی بار کب اور کس کے خلاف مارچ کرتی  ہے۔سٹریٹ پاور اس تنظیم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے مگر یہ ہر مرتبہ اسی شد ت سے نہیں چل سکتا ، تشدد کا جواب تشدد سے آنا شروع ہوگیا تو یہ ہتھیار اپنے مذہبی کارڈ سمیت ناکارہ ہوجائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس تنظیم کو پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک میں نقب لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔ یہ تجربہ  تو پہلے بھی ہوچکا مگر کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا ۔ عدلیہ کا ثاقب ٹولہ ، نیب و دیگر ادارے استعمال کرکے زبردست پری پول دھاندلی اور پھر پولنگ کی رات آر ٹی ایس نہ بٹھایا جاتا تو اپوزیشن آج اتنی مسکین نہ ہوتی ۔ ہوسکتا ہے کہ اگلی بار بھی ایسے ہی ارادے ہوں مگر شاید 2018 والا ماحول میسر نہ آسکے ۔ ویسے بھی جس قسم کی بے ضرر سیاست ہورہی ہے اس میں وزیر اعظم شہباز شریف ہوں ، شاہ محمود قریشی ، بلاول بھٹو زرداری یا اسی طرح کی کوئی اور شخصیت یہ نظر آرہا ہے کہ اگلی حکومت بھی ‘‘ خاندان غلاماں ‘‘ کی ہی ہوگی ۔