قرآن کریم پوری انسانیت کیلئے مکمل ضابطہ حیات ہے

قرآن کریم پوری انسانیت کیلئے مکمل ضابطہ حیات ہے

قرآن کریم پوری انسانیت کیلئے مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس بارے علامہ اقبالؒ کا عقیدہ تھاکہ صحیح اور مستنداحادیث مقاصدِ اسلام اور مقاصدِ قرآن کو واضح کرتی ہیں اور خاص حالات پر اسلامی عقائد کا اطلاق کرتی ہیں‘ لیکن جہاں تک اصول اور اساس اسلام کا تعلق ہے‘ قرآن پاک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں‘ احادیث کی صداقت اور صحت کا معیار بھی قرآن پاک ہی ہے۔

علامہ اقبال نے ساری زندگی یہ پیغام پھیلاتے رہے کہ اے مسلمانوں! اپنے آپ کو مصطفیؐ تک پہنچاؤ کیو نکہ آپؐہی کی ذاتِ گرامی سارادین ہے۔ اگر تم وہاں تک رسائی حاصل نا کر سکو توسمجھ لو کہ تم اسلام سے دور ہو اور بولہبی میں گرفتار ہو۔علا مہ اقبالؒ عشق کو ہی باعثِ تکوین کا ئنات تصور کر تے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ انسان سوائے عشق کے اپنی زما م کسی کے حوالے نہیں کر تا۔عشق ہی اسے خود سپردگی سکھا تا ہے۔عشق ہی اسے اپنی رضا کو محبوب کی رضا کے سپرد کر نے پر آمادہ کرتا ہے۔ چنا نچہ علامہ اقبا لؒ فرما تے ہیں:

عشق دم ِ جبر یل ، عشق دلِ مصطفیٰؐ

عشق خدا کا رسولؐ، عشق خدا کا کلام 

ایک جگہ اقبالؒفرما تے ہیں:مصطفیؐ کا مقام مسلمانو ں کے دل میں ہے ہماری عزت آپؐ کے نامِ مبارک سے ہے۔ کو ہِ طورآپؐ کے دولت خانہ کی گرد کی ایک لہر ہے۔ اور آپؐ کا کا شانہ مبارک کعبہ کے لیے بیت الحرم کا درجہ رکھتا ہے ابد حضور ؐ کے اوقات کے ایک پل سے بھی کم تر ہے۔ وہ حضورؐ کی ذات مبارک سے فیضان حاصل کر نے والاہے چٹا ئی حضورؐ کی راحت بھری نیند کی احسان مند ہے۔ کسریٰ کا تاج آپؐ کی اْمت کے پا ؤ ں تلے 

ہے۔حضور اکرمؐ نے غارِحرا میں خلوت گزینی اختیار کی اور ایک قوم ایک (عظیم ) آئین اور ایک (عظیم) حکومت دنیا کو دی۔

ایک بار اقبالؒ نے بتصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حضرت محمد ؐ کی ذات اقدس تھی جس نے بتایا کہ دین اور دنیا یا روحانی اور مادی کو کیسے یکجا کیا جائے۔ کوئی غیر مسلم مسلمان کی اس محبت کا اندازہ نہیں کر سکتا جو مسلمان کو اپنے حضرت نبی پاک ؐسے ہوتی ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ دور جدید کے ممتاز ترین مفکر اقبالؒ کی شاعری مسلمان اور غیر مسلم دونوں کوحضرت محمد ؐکی محبت سے متاثر کرتی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں شرکاء نے مسلمانوں کی وہ کمزوریاں بیان کیں جن کی نشاندہی کلام اقبالؒ میں کی گئی تھی۔اس مقصد کے لیے شکوہ و جواب شکوہ کے متعدد بندنقل کیے تھے اورآخر میں اصلاح احوال کے لیے علامہؒ کی تجاویزکاخلاصہ تحریرکیاگیاتھا اورخاص طور پر تعلیم و تحقیق اوراتحادامت پرزوردیا۔یہ حقیقت ہے کہ آج کا مسلمان نہ صرف اسلامی تعلیمات سے بے بہر ہ ہو رہا ہے بلکہ اس کو ناموس رسالتؐ سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم ممالک توہین رسالتؐ کا ارتکاب کر رہے ہیں اور مسلم ممالک صرف زبانی احتجاج تک محدود ہیں۔ 

علامہ اقبالؒ کی تعلیم و تربیت ایسے اسلامی اور دینی ماحول میں ہوئی تھی کہ اسلام، انبیائؑ ، صلحاء ، صوفیاء اور علمائے کرام سے محبت بچپن میں ہی ان کے خمیر میں رچ بس گئی تھی۔ حب رسولؐ اور عشق نبویؐ تو ان کے شریانوں میں خون بن کر گردش کرتا تھا۔ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ ؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمھارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میری محبت تمھارے دل میں اولاد، والدین اور پورے انسانی کنبے کی محبت سے بڑھ کر نہ ہو۔ اس حدیث کے واضح مفہوم پر ایمان رکھتے ہوئے علامہ اقبالؒ حب نبوی اور عشق رسول کو ایمان کی بنیاد واساس تصور کرتے تھے۔ آپ ؐ کا نام زبان مبارک پر آتے ہی یا آپؐ کانام کانوں میں پڑتے ہی احساس وشعور میں سوز وگداز کی برقی لہر دوڑ جاتی اورتفکرات کی لا محدود دنیا میں کھو جاتے تھے ۔ 

علامہ اقبالؒ کی طبیعت میں اس قدر سوز و گداز تھا اور آپ حب رسولؐ میں اس قدر سرشار تھے کہ جب کبھی حضور علیہ السلام کا ذکر خیر ہوتا بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے۔ اگر کسی وقت آپ سرکار دوعالمؐ کی سیرت پاک کے کسی عنوان پر گفتگو فرمانے لگتے تو ایسی عام فہم، سیر حاصل اور شگفتہ بحث کرتے کہ ہر موافق و مخالف گرویدہ ہو جاتا تھا۔ اگر آپ کے سامنے کوئی مسلمان محمدؐصاحب کہتا، تو آپ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ ایک بار کسی نے سرورِ دو عالم ؐ کی شان میں کچھ گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تو آپ بے حد برہم ہوئے اور فوراً اس کو محفل سے نکلوا دیا۔

 امت مسلمہ کے انتشارسے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیںاور ملت کمزورسے کمزورترہوتی چلی جا رہی ہے۔ قرآن مجیدکی تعلیمات ان کے عقائداوراول و آخر منبہ ہیں۔ جس طرح قرآن کی ایک آیت کے کئی کئی مطالب اخذکیے جاتے ہیں اسی طرح اقبالیات کو بھی متعددتشریحات کاپیراہن پہنایاجاتاہے۔ اقبالؒ کی تفہیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خالق تصورپاکستان کی فکرکو تازہ کیاجائے اور نسل نوکو اپنے شاندارماضی سے روشناس کرانے کے لیے اقبالیات سے لازمی طورپر جوڑاجائے۔