ناکافی ثبوت پر راجا پرویز اشرف کیخلاف نیب انکوائری ختم

اسلام آباد: نیب اعلامیے کے مطابق راجا پرویز اشرف کے خلاف بد عنوانی اور کرپشن کا کوئی ٹھوس ثبوت اور مواد نہیں ملا جب کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلے کی منظوری دے دی۔  راجا پرویز اشرف کے ساتھ سندھ کے وزیر صنعت محمد علی ملکانی، شیرازی برادران سابق ایم این اے شفقت شاہ شیرازی اور سابق ایم پی اے اعجاز شیرازی ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز فاؤنڈیشن انتظامیہ اور صوبائی ہائی وے ڈیپارٹمنٹ جہلم کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزامات واپس لیتے ہوئے نیب انکوائریز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس میں تحقیقات ہو رہی تھی جو گزشتہ تین سال سے جاری تھی۔

 نیب ایگزیکٹو بورڈ نے بدھ کے روز چوہدری قمر زمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سابق چیئرمین متروکہ املاک آصف ہاشمی اور سابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی عظمت حیات کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت دو ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

آصف ہاشمی پر الزام ہے کہ انہوں نے 777 غیر قانونی تقرریاں کیں اور قومی خزانے کو 77 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا جبکہ سابق وائس چانسلر پر الزام تھا کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اضاخیل میں یونیورسٹی کی زمین کی خریداری میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔  ایگزیکٹو بورڈ نے چار انویسٹی گیشنز کی منظوری دی۔

چیف ایگزیکٹو آئیسکو پر ٹرسٹ انوسمنٹ بنک میں غیر قانونی سرمایہ کاری کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 12 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ دوسری انوسٹی گیشن لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور عملے کے خلاف شروع کی جائے گی۔ انہوں نے ذیشان بلڈرز کو اراضی الاٹمنٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے قومی خزانے کا 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ تیسری انویسٹی گیشن سٹیٹ بنک اور بنک اسلامی کے بعض افسروں اور ملازمین کے خلاف کی جائے گی جس پر 20 ارب روپے کے رعائتی قرضے جاری کرنے کا الزام ہے جبکہ چوتھی انویسٹی گیشن وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ڈاکٹر احسان علی کے خلاف کی جائے گی ۔ جن پر یونیورسٹی کے فنڈز کی خوردبرد کر کے قومی خزانے کو 41 کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔

نیب نے سندھ کے ایم پی اے نواب محمد تیمور تالپور کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے، انڈس موٹر کمپنی حیدرآباد، کراچی کے ڈیلرز کے خلاف لوگوں کو ٹویوٹا گاڑیوں کی بکنگ میں دھوکہ دینے اور لوگوں سے 25 کروڑ روپے بٹورنے کے الزامات میں انکوائریز کھولنے کی منظوری دے دی۔ تیسری انکوائری پنجاب اسپورٹس بورڈ کی طرف سے یوتھ فیسٹول میں فنڈز کی وسیع خورد برد کے الزام پر کی جائے گی۔

نیب نے کے پی ٹی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف قومی خزانے کو 12 ارب روپے کا نقصان پہنچانے ۔ سکھر ڈویژن DAD افسروں اور عملے کے خلاف سرکاری فنڈزمیں غبن سے 2 ارب روپے سے زیادہ کے نقصان پر کارروائی کی منظوری دے دی گئی۔ کریک میرین پروجیکٹ کراچی میں 3 ارب روپے سے زیادہ کی بد عنوانیوں کی انکوائری بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان نے واضح کیا کہ نیب بدعنوان افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں