شجاع خانزادہ پر حملے میں ملوث دہشت گرد کراچی میں مارا گیا

کراچی: میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں خواجہ اجمیر نگری کے قریب پولیس نے سرچ آپریشن شروع کیا تو اس دوران پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جس میں پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔ ایس ایس پی عرفان بلوچ کے مطابق دہشت گرد کو نارتھ کراچی میں ڈبلیو 22 کے اسٹاپ کے قریب ہلاک کیا گیا جب کہ اس دوران اس کے 2 ساتھی فرار ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ اجمیر نگری میں مارے گئے دہشت گرد کی شناخت سعد سر خان کے نام سے ہوئی ہے جو ہری پور کا رہنے والا تھا اور کراچی میں ڈیفنس میں رہائش پذیر تھا۔ ذرائع کے مطابق مارا گیا دہشت گرد کالعدم پنجابی طالبان اور کالعدم لشکر جھنگوی سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے ساتھ کام کرتا رہا اور حال ہی میں غیر قانونی طریقے سے پاکستان پہنچا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اسی دہشت گرد نے پنجاب کے مرحوم وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر حملے کے لیے خودکش جیکٹ پہنچائی تھی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ دہشت گرد سعد سرخان ہری پور سیشن عدالت میں فائرنگ سمیت پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پنجاب میں ایک دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا یہ اس کا ساتھی تھا اور کراچی میں پرانی سبزی منڈی کے قریب منشیات کا سب سے بڑا اڈہ چلا رہا تھا۔

پولیس کے مطابق دہشت گرد کے قبضے سے 4 دستی بم، 6 پستول، رائفل، 7 ایم ایم رائفل اور آوان بم بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ 16 اگست  2015کو اٹک میں اپنے گاﺅں شادی خان میں ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں