کالعدم تنظیموں سے رابطوں کے انکشاف کے بعد دھمکیاں مل رہی ہیں: ریاض پیرزادہ

اسلام آباد:وزیربین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ 37اراکین پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسی کا خط منظر عام پر آنے پر مجھے اور میرے خاندان کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہورہے ہیں،وزیراعظم آفس کو اس معاملے کی انکوائری کر نے پر بطور وزیر میں احتجاجاً واک آؤٹ کر رہا ہوں ۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ37 اراکین پارلیمنٹ کے نام سے ایک خط انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے سامنے آیا ہے،اس معاملے پر ہمیں دھمکیاں آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اراکین پارلیمنٹ میں مرتضی جاوید عباسی،جاوید اخلاص،غلام بی بی بھروانہ،چوہدری ارمغان سبحان،طارق محمود،شازیہ مبشر،چوہدری بلال ورک،محمد معین،عبدالرحمان کانجو،سکندر بوسن،محمد خان ڈھایا،سید اطہر حسین گیلانی،حافظ عبدالکریم،سردار اویس احمد خان لغاری،جمال خان لغاری،سردار جعفر خان لغاری،ڈاکٹر حفیظ خان، بلیغ الرحمان،طاہر بشیر چیمہ،سید علی حسن گیلانی،ریاض حسین پیرزادہ،سید محمد اصغر شاہ،محمد خسرو بختیار،شیخ فیاض الدین،میاں امتیاز احمد،سید ایاز علی شاہ ،جمال خان لغاری سمیت37 ممبران شامل ہیں جن کے کالعدم تنظیموں سے لین دین اور تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم رپورٹ بنانے والوں،میڈیا سے نہیں لڑ سکتے ہیں،وزیراعظم کو اس معاملے پر انکوائری کرنی چاہئے۔