فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جھڑپیں

فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جھڑپیں

غزہ :فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں ، ایک  ہفتے کے دوران  اسی طرح کی جھڑپوں میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔


اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے افراد کو ٹانگوں پر گولی ماری ہے جبکہ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور پتھراؤ کیا ہے۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان مپاجرین کو اپنی آبائی زمینوں پر واپس آنے کی اجازات دی جائے جو اب اسرائیل کا حصہ ہیں لیکن اسرائیل کا کہنا ہے عسکریت پسند گروپ حماس حملے کرنے کے لیے یہ ریلیاں نکال رہی ہے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ سپاہیوں کو گولی چلانے کے بارے میں دیا گیا حکم بین الاقوامی تنقید کے باوجود تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔اس سے قبل امریکہ نے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ پرامن احتجاج کریں اور غزہ اور اسرائیل کی سرحد سے 500 میٹر دور رہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعہ کو فلسطینی نئے مظاہروں کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر جیسن گرینبلیٹ نے دیا ہے۔بیان میں انھوں نے کہا ’امریکہ مظاہرے کرنے والے رہنماؤں سے استدعا کرتا ہے کہ وہ سب کو صاف صاف بتا دیں کہ احتجاج پرامن ہو اور کسی قسم کے تشدد سے اجتناب کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’مظاہرین غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب 500 میٹر کے بفر زون سے باہر رہیں اور کسی بھی صورت میں سرحد کے قریب نہ جائیں۔ ہم ان رہنماؤں اور مظاہرین کی مذمت کرتے ہیں جو مظاہرین بشمول بچوں کے کو سرحد کی قریب جانے کا کہتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ وہ زخمی یا ہلاک ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل نے تنبیہہ کی ہے کہ فائر کرنے کے احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔