میرا مقصد وزیراعظم یا ایم این اے بننا نہیں بلکہ قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہے،عمران خان

میرا مقصد وزیراعظم یا ایم این اے بننا نہیں بلکہ قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہے،عمران خان

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کو وزیراعظم کا باضابطہ امیدوار نامزد کردیا۔مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پہلے الیکشن میں کامیابی پر پارٹی رہنماوں کو مبارکباد دی۔

 شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی تحریک پیش کی ،جسے اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے انہیں وزیراعظم کا امیدوار نامزد کردیا گیا ۔ اس موقع پر تمام اراکین نے کھڑے ہو کر چیئرمین تحریک انصاف کو مبارکباد پیش کی اور ہال کچھ دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم نامزد کرنے پر پارلیمانی پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف آج عمران خان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرے گی

بعد ازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ عوام نے ہمیں جس منشور پر ووٹ دیا ہے ،اسے آگے لیکر چلنا ہے، اب ہمیں اپنے مقاصد سے پیچھےنہیں ہٹنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پارٹی کے ابتدائی کارکنوں کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ آپ لوگوں نے پارٹی کے لیے بڑی محنت کی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میرا مقصد وزیراعظم یا ایم این اے بننا نہیں، بلکہ قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہیں، ملک مالی طور پر بحران کا شکار ہے اس کو بحران سے نکالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے رجوع کرینگے۔عمران خان نے کہا کہ آج میرے لیے پروٹوکول لگا دیا , ایسے ملک نہیں چلے گا , اگر تبدیلی نہ لاسکے تو حشر ایم ایم اے اور اے این پی سے بھی برا ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں: خود پروٹوکول نہیں لوں گا اور نہ کسی کو لینے دوں گا، عمران خان

عمران خان نے کہا کہ کہ سیاست عبادت سمجھ کر کریں، پرانی سیاست ختم کرنا ہوگی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جس تبدیلی کیلئے 22 سال جدوجہدکی وہ آچکی ہے، اب ملک میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، ملک میں میرٹ کے نظام کو اپنائیں گے، خیبرپختونخوا کی طرح پورے ملک میں اصلاحات لائیں گے، قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہیں، ملک کو مالی بحران سے نکالنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 1970 میں عوام نے مستحکم سیاسی اشرافیہ کو شکست دی، 70 کی دہائی کے بعد آج عوام نے دو جماعتی نظام کو شکست دی، ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ دو جماعتی نظام میں تیسری جماعت کو موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے پہلے 6 ماہ انتہائی اہم ہیں، عوام تبدیلی کے لیے نکلے اور اپنا فیصلہ سنایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق پورے ملک میں جہاں امیدوار کا چہرہ تبدیلی سے نہیں ملتا تھا وہاں عوام نے مسترد کر دیا، مجھ پر آج سب سے بڑی ذمے داری آن پڑی ہے، جدوجہد سے بھرپور زندگی اتار چڑھاو سے عبارت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا عوام نے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے تا کہ آپ نچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں، عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمان ان کیلئے قانون سازی کرے، میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کےلئے کروں گا، میں آپ سے اسکا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں۔

عمران خان نے کہاکہ عوام ہمیں روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ دیکھتے ہیں، میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا، ہماری یہ جدوجہد پاکستان کا مستقبل بدل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزرا کو بھی صحیح معنوں میں جوابدہ بنائیں گے، آپ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں اللہ آپ کو وہ عزت دیگا جس کا تصور بھی ممکن نہیں، آپ نے قوم کا پیسہ بچانا ہے تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے۔

 

عمران خان نے کہا کہ عوام ہم سے روایتی طرز سیاست و حکومت کی امید نہیں رکھتے، اگر روایتی طرز حکومت اپنایا تو عوام ہمیں بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے، عوام آپ کا طرزسیاست اور کردار دیکھیں گے اور اس کے مطابق ردعمل دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ حزب اختلاف کے پاس مولانا فضل الرحمان تو ہیں مگر اخلاقی و روحانی قوت سے محروم ہے آج اللہ نے آپ کو اخلاقی برتری دی ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے  برطانیہ کی طرز پر ہر ہفتے بطور وزیر اعظم ایک گھنٹہ سوالات کے جواب دیا کروں گا ۔عمران خان نے کہا کہ سرمایہ اور ذہانت دونوں ہی خیبر پختونخوا سے نکل چکے تھے، ہم خیبر پختونخوا میں آئے تو 70 فیصد صنعتیں بند تھیں، اغواءبرائے تاوان ایک صنعت بن چکا تھا، وہاں کے عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں