مصنوعی ذہانت: بجٹ میں فنڈز مختص

Rana Zahid Iqbal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2021-2022ء کے پی ایس ڈی پی کے تحت پاک چین کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تبادلہ کے لئے سنٹر کے قیام کے منصوبہ کی تکمیل کے لئے 31 کروڑ 20 لاکھ روپے ترقیاتی فنڈز کی مد میں مختص کئے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے مجموعی لاگت کا تخمینہ 99 کروڑ 14 لاکھ 12 ہزار روپے ہے۔ ہمارے ہاں پہلی دفعہ اس مقصد کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں جب کہ یہ کام کافی پہلے کیا جانے والا تھا۔  مصنوعی ذہانت کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے آثار ہم کو ارسطو کے فلسفہ، خوارزمی کے الجبرا، چومسکی کے لسانیات، معاشیات اور علمِ نفسیات میں بھی ملتے ہیں۔ جدید دور میں اس کی بنیاد اس وقت پڑی جب منسکی اور ایڈمن نے پہلا نیورل کمپیوٹر بنایا۔ 1956ء میں اس فیلڈ کو باقاعدہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کا نام دیا گیا۔اس وقت سے لے کر اب تک یہ شعبہ کئی ایک عروج و زوال کے مراحل سے گزر چکا ہے۔ خود کاری بنی نوع انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے۔ دنیا کی زیادہ تر ایجادات اسی خواہش کا نتیجہ ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس جس سے مراد کہ ہم کمپیوٹر یا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کر دیں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ کر خود عمل کرنے کے اہل ہوں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہم اپنے روزمرہ کے بہت سے ٹاسک کمپیوٹر کی مدد سے آٹو میٹک طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ہر صورتحال میں انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن بہت سارے کام ایسے ہیں جن کا سر انجام دینا انسانی دماغ کے بس کی بات نہیں جیسا کہ جہاز کی پرواز کے لئے کمپیوٹر کی مدد درکار ہوتی ہے۔ 

صنعتوں میں استعمال ہونے والی مشینری نہایت قیمتی ہوتی ہے اور اس کی مناسب دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ صنعتی مشینوں کے دیو ہیکل وجود مسلسل معائنہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تنصیب دور دراز ہوتی ہے۔ اس لئے ان تک رسائی بھی مشکل ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ بہت حساس ہوتی ہیں اور معمولی نقصان بھی بہت 

بڑے حادثہ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ان صنعتوں میں تیل، گیس، نیو کلیائی پلانٹس، ہوائی چکیاں، ذرائع آمد و رفت اور ریلویز شامل ہیں جو کہ اپنی اہمیت کے پیشِ نظر مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت رکھتی ہیں۔ انسان زیادہ درجہ حرارت اور پہنچ سے دور جگہوں کے باعث چلتی مشینوں کا معائنہ نہیں کر سکتا اور روبوٹس اس کام کا بہتر آپشن یا متبادل ہیں۔ روبوٹس معائنہ اور سرویلنس میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ روبوٹک مشینری آئل اور گیس ٹینک کی لیکج، زنگ آلودگی اور جمع شدہ فاضل مادوں کی تشخیص میں بہت معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ روبوٹس نیو کلئیر پلانٹس سے لے کر کثیر المنزلہ عمارتوں کی ساخت میں موجود نقائص کی با آسانی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ دنیا میں ایسے متحرک روبوٹس بنائے جا رہے ہیں جو کسی بھی نازک اور اہم انفرااسٹرکچر کی مضبوطی کو پرکھ کر اس کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ اصل مقصد خطرناک ماحول میں کام کرنے والے کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ بہت سے غوطہ خوروں کی اموات واقع ہو چکی ہیں جو سمندر اور دوسری تہوں میں ایسے اسٹرکچر کی مرمت و معائنہ کرتے ہیں۔

آج سے کچھ سال قبل جب ہم کسی بینک میں جاتے تھے تو انسانی عملہ ہمارے روبرو ہوتا تھا لیکن اب انسانوں کی جگہ روبوٹس اور مشینوں نے لے لی ہے۔ چند سال پہلے جہاں دس لوگ کام کرتے تھے آج وہاں بمشکل دو یا تین لوگ ہمیں دیکھنے کو ملیں گے۔ باقی تمام جگہ روبوٹس نے لے لی ہے اور ایسے سسٹمز اس لئے بنائے گئے ہیں کہ مشینیں ایسے پیچیدہ عوامل سیکھ سکتی ہیں جو انسانوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ اگر ہم ایسا سسٹم بنائیں جس میں بہت سے ڈاکٹرز کا مجموعی تجربہ درج ہو تو ایسا سسٹم بہتر انداز میں کام کر سکتا ہے۔ ایسا سسٹم بہت پیچیدہ اور زیادہ حجم والے ڈیٹا کے تجزیہ سے اہم فیصلے آسانی سے لے سکتا ہے۔ ابھی دنیا مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ جب یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر قابلِ عمل ہو جائے گی تو انسانوں کے لئے معاون ثابت ہو گی۔ انسانوں کی طرح بازو، آنکھیں اور دماغ رکھنے والے روبوٹس مشکل ماحول میں کام کرتے نظر آئیں گے جہاں انسان کے لئے کام کرنا مشکل اور خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ انسانوں جیسی قابلیت اور تحریک سے لیس روبوٹس اہم نتائج پیدا کریں گے۔ ایسی مشینوں کو بنانے کا مقصد ان سے ایسے مشکل کام لینا ہے جو انسانوں کی قوت سے باہر ہیں۔ 

آج لگ بھگ ہر شعبہ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہو رہا ہے اور مزید نئے تجربات بھی کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شطرنج کھیلنا، کینسر کا علاج کرنا جیسی چیزوں کے لئے بھی مصنوعی ذہانت بڑی اہم ہے۔ آرٹیفیشل انٹلیجنس کی پہلی تحقیق 1956ء میں ہوئی تھی جس کو مزید بہتر بنانے کا سلسلہ ہنوذ جاری ہے اور آج انسانی دماغ " ایم مورٹیلٹی ٹیکنالوجی" کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ایسے مصنوعی انسان بھی تیار کئے جائیں گے جو زندہ انسانوں کی طرح ہر جگہ چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہو گا کہ ان مصنوعی انسانوں کو نیند، تھکن، بیماری اور موت سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ یہ ہر وہ کام کر سکیں گے جو آج انسان اپنی محدود ذہنی استعداد کی وجہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسی لئے مصنوعی ذہانت کو انسانی تاریخ کا دوسرا انقلاب اور سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ خصوصاً صنعتوں، کمپیوٹرز اور روبوٹکس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی جدید اور منفرد تیکنکوں کی بدولت جو انقلاب رونما ہوا ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اے آئی کا اصل مقصد ایسی مشینیں تیار کرنا ہے جو بالکل انسانوں کی طرح سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشینوں کو اتنا جدید بنایا جائے کہ وہ نا صرف ارد گرد ماحول کو سمجھتے ہوئے ردِ عمل کریں بلکہ چند سیکنڈوں میں انسان کی خواہش کے مطابق افعال بھی سر انجام دے سکے۔

کہا یہی جا رہا ہے کہ دنیا چوتھے صنعتی انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جائے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہماری زندگیوں پر غالب ہو جائے گی۔ چائنہ اس میں بہت ترقی کر چکا ہے اب چائنہ کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت پر کام کرنے کے لئے حکومت نے بجٹ مختص کیا ہے تو اس میں پاکستان بھی جلد ہی ترقی کر لے گا۔