سپریم کورٹ کا رحیم یار خان میں مندر حملے کے ملزمان فوری گرفتار کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا رحیم یار خان میں مندر حملے کے ملزمان فوری گرفتار کرنے کا حکم
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے رحیم یار خان میں مندر حملے کے ملزمان فوری گرفتار کرنے اور شرپسندی پر اکسانے والوں کےخلاف بھی کارروائی کا حکم دیدیا ہے جبکہ کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ 

نیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں رحیم یار خان مندر حملہ از خود کیس کی سماعت ہوئی جس میں آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ مندر پر حملہ ہوا، پولیس کہاں تھی؟ جس پر آئی جی پنجاب بن یامین نے بتایاکہ اے سی اوراے ایس پی موقع پرموجود تھے اور ترجیح مندرکے قریب 70 ہندو گھروں کا تحفظ تھا جبکہ اس کے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔ 

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور پولیس نے ماسوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کیا۔ سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے کوئی گرفتاری عمل میں نہ آنے کا بتایا توچیف جسٹس نے کہاکہ واقعہ کوتین دن ہوگئے ایک شخص گرفتار نہیں ہوا، پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوئی اور ندامت دیکھ کرلگتا ہے پولیس میں جوش ولولہ نہیں، پولیس کے پروفیشنل لوگ ہوتے تو اب تک معاملات حل ہوچکے ہوتے اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کام نہیں کرسکتے تو ہٹا دیں۔ 

 جسٹس قاضی امین کے سوال پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ مندر حملہ کیس میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے بھی معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم اپنا کام جاری رکھیں، کیس کا قانونی پہلو دیکھیں گے، پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوئی۔ 

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ پھر پولیس ملزمان کی ضمانت،صلح کروائے گی، سرکاری پیسہ سے مندر کی تعمیر ہو گی۔ سپریم کورٹ نے مندر بحالی کے اخراجات بھی ملزمان سے ہر صورت وصول کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کا کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار عدالت عظمیٰ کی متاثرہ علاقے میں قیام امن کیلئے ویلج کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا گیا آٹھ سالہ بچے نے لائبریری میں پیشاب کیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو بچے کا تشدد سے پیشاب نکلا تھا، پولیس نے آٹھ سالہ بچے کو گرفتار کیوں کیا؟ جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ بچے کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آٹھ سالہ بچے کو مذہب کا کیا پتا؟ کیا پولیس والوں کے آٹھ سال کے بچے نہیں ہوتے؟ کیا پولیس کو آٹھ سالہ بچے کے ذہن کا اندازہ نہیں؟ بچے کو گرفتار کرنے والا ایس ایچ او برطرف کریں،انتظامیہ کو فارغ کریں وہ صرف زندگی انجوائے کر رہے، بیوروکریسی صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہی ہے،آئی جی پنجاب نے متعلقہ ایس ایچ او کی برطرف کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ 

چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ بے لگام سوشل میڈیا مسئلے کی بنیادی وجہ ہے،عبدالرزاق سومرو نامی شخص نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی، گزشتہ محرم میں بھی کافی لوگوں کو سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے گرفتار کیا گیا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ زیادہ تر حملہ آور کچے کے علاقہ سے آئے تھے، حملہ آوروں نے پہلے الم نذر آتش کیا پھر مندرگئے۔ 

آئی جی پنجاب نے کہا کہ مسجد امام بارگاہ اور مندر ساتھ ساتھ ہیں، متاثرہ علاقہ میں حالات آئیڈیل تھے کبھی بدامنی نہیں ہوئی، سپریم کورٹ نے مندر حملے کے ملزمان فوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے شرپسندی پر اکسانے والوں کیخلاف بھی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندو کمیونٹی کیلئے مسائل پیدا کر سکتے،یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں ، عدالت نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ،عدالت نے متاثرہ علاقے میں قیام امن کیلئے ویلج کمیٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی اور چیف سیکرٹری سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ مانگ لی۔

 عدالت نے ملزمان کیخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے پنجاب میں مذہبی ہم آہنگی کیلئے امن کمیٹیاں قائم کا حکم دیا، کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی گئی۔