اگر ٹک ٹاک بند کرنا ہی واحد راستہ ہے تو پھر گوگل بھی بند کر دیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

اگر ٹک ٹاک بند کرنا ہی واحد راستہ ہے تو پھر گوگل بھی بند کر دیں: اسلام آباد ہائیکورٹ
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹک ٹاک پر پابندی پر مطمئن کرنے کی ہدایت کی اور میکنزم بنا کر وفاقی حکومت سے مشاورت کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اگست تک کیلئے ملتوی کر دی ہے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر ٹک ٹاک بند کرنا ہی واحد راستہ ہے تو پھر گوگل بھی بند کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر ٹک ٹاک بند کرنا ہی واحد راستہ ہے تو پھر گوگل بھی بند کر دیں، یہ 21 ویں صدی ہے اس میں لوگوں کا ذریعہ معاش سوشل میڈیا ایپس سے جڑا ہے، اس پر پی ٹی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ پشاور اور سندھ ہائیکورٹ نے پابندی لگائی تھی اور میکنزم بنانے کا کہنا تھا۔ 

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دونوں عدالتوں نے کہیں نہیں کہا کہ آپ ٹک ٹاک کو مکمل طور پر بند کریں، ایسے ویڈیوز تو یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ ہوتے ہیں، تو آپ یوٹیوب کو بھی بند کر دیں گے؟ آپ لوگوں کو گائیڈ کریں کہ غلط چیزیں نہ دیکھیں، ایپس تو ذریعہ معاش اور تفریح کا ذریعہ ہیں، آپ نے دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو غلط استعمال کیا، میکنزم کا کہا گیا تو کیا آپ نے میکنزم بنایا؟ آپ کے پاس کیا اختیار ہے کہ آپ ٹک ٹاک مکمل بند کر رہے ہیں؟ جس بنیاد پر ٹک ٹاک بند کیا، اسی بنیاد پر سوشل میڈیا کے باقی ایپس کیوں بند نہیں کئے؟

پی ٹی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ سوشل میڈیا کے باقی ایپس میں چیزوں کو سرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ ٹک ٹاک پر خود ہی آجاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر پی ٹی اے ٹک ٹاک کو بند کرتی ہے تو کیا پی ٹی اے پاکستان کو دیگر ممالک سے منقطع کر سکتی ہے؟ پی ٹی اے کیا چاہتی ہے؟ کیا اخلاقی نگرانی کرے گی؟ آپ صرف منفی چیزیں کیوں دیکھتے ہیں، آپ مثبت چیزیں بھی دیکھ لیں، بالغوں کو غلط چیزیں خود نہیں دیکھنی چاہئیں، سوشل میڈیا ایپس کے صرف نقصانات نہیں فوائد بھی ہیں، عدالت کو مطمئن کریں کہ کبھی پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کے فوائد اور نقصانات پر ریسرچ کی ہو، بیرون ممالک میں ٹک ٹاک کہاں کہاں پر اور کیوں بند ہے؟۔

وکیل پی ٹی اے نے بتایا کہ انڈیا اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک میں ٹک ٹاک بند ہے، انڈیا میں ٹک ٹاک پر پابندی سیکیورٹی کی وجہ سے لگائی گئی، عدالت نے استفسار کیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن نے کس قانون کے تحت ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی؟ وکیل پی ٹی اے نے جواب دیا کہ پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو پیکا ایکٹ کے تحت بلاک کیا جس پر عدالت نے کہا کہ ایسی کونسی ایپ ہے جس میں غلط چیزیں نہ ہو ؟ کیا پی ٹی اے پاکستان کو باہر دنیا سے منقطع کرنا چاہتی ہے؟۔

وکیل پی ٹی اے نے جواب دیا کہ عدالت جو فرما رہی ہے ایسا ممکن نہیں، ٹک ٹاک ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہا، اسی وجہ سے ہم نے بند کیا، ہم نے ٹک ٹاک کو مستقل بند نہیں کیا، ہم نے صرف اتنا کہا کہ آئے اور ہمارے ساتھ میکنزم بنائے، وقت کے ساتھ سب کیلئے میکنزم بنائیں گے۔ ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک پر پابندی پر مطمئن کرنے کی ہدایت کی اور میکنزم بنا کر وفاقی حکومت سے مشاورت کا حکم دیا۔