سعودی عرب سے پہلی مرتبہ خواجہ سرا شہری منظر عام پر آگیا، ساتھ ہی ایسا اعلان کردیا کہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا

سعودی عرب سے پہلی مرتبہ خواجہ سرا شہری منظر عام پر آگیا، ساتھ ہی ایسا اعلان کردیا کہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا

واشنگٹن: سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے میں اس بات کا تصوربھی ناممکن ہے کہ کوئی شخص ہم جنس پرستی یا تبدیلی جنس جیسے رجحانات و نظریات کا سرعام تذکرہ کرسکے، لیکن اسی ملک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے پہلی بار عین یہی کام کرکے دنیا کو حیران کر ڈالا ہے۔


ویب سائٹ کائرو سین کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ سلمان الدوخیل نے امریکا جاکر انکشاف کیا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر لڑکی تھا لیکن اب جنس تبدیل کرواکر لڑکا بن چکا ہے۔ سلمان کا کہنا ہے کہ اسے بچپن سے ہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کی اصل جنس وہ نہیں ہے جو بظاہر نظر آتی ہے لیکن ایک روایت پسند اور سخت گیر معاشرے میں اپنی مخفی سوچوں اور جنسی میلان کا کسی سے تذکرہ کرنا ممکن نہ تھا۔ اس نوجوان کی جنسی کشمکش جب حد سے بڑھ گئی تو اس نے بالآخر اپنے گھر والوں سے ہی اپنا مسئلہ بیان کیا۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ گھر والے اس کی بات سننے اور سمجھنے پر تیار تھے۔ چونکہ اس کی پرورش سعودی عرب اور امریکہ میں ہوئی تھی لہٰذا اس کے لئے امریکہ منتقل ہونے اور وہاں تبدیلی جنس کا آپریشن کروانے میں خاصی سہولت رہی۔ ہارمون تھیراپی اور دیگر مراحل کے مکمل ہونے پر اب وہ مردانہ شکل اختیار کرچکا ہے۔ الدوحیل کے بیان پر اسے سعودی عرب میں شدید نشانہ بننا پڑاہے ۔