اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کی زمین ہتھیانے کے لیے ووٹنگ

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کی زمین ہتھیانے کے لیے ووٹنگ

یروشلم: اسرائیلی کی پارلیمنٹ میں فلسطین کی حدود میں غیر قانونی تعمیر شدہ گھروں کو قانونی شکل دینے کے لیے ووٹنگ کی گئی، یہ غیر قانونی بل کو منظور کروانے کی انتہائی متنازعہ قانونی کوشش ہے جس سے صرف زمین ہتھیانے کا منصوبہ کہا جا سکتا۔


اسرائیلی کی اس کوشش کو بین الاقومی برادری کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کہنا ہے کہ اسرائیل کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔

اس غیر قانونی بل کو 60اور 49ووٹوں کے فرق سے منظور کر لیا گیا لیکن بل کو کو باقاعدہ قانوں بننے کے لیے ابھی مزید 3ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر اساق ہرزوگ اس قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کو ”قومی خودکشی “قرار دیا ہے۔

بل پر مزید بحث کے لیے ابھی پارلیمانی جماعتوں کی مددکی ضرورت ہو گی تاہم بل کو عدالت میں بھی چیلینج کیا جا سکتا ہے، واضح رہے فلسطین کی حدود میں اسرائیل نے غیر قانونی طور پر 4000تعمیر کر رکھے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی اس کوشش پر اقوام متحدہ کے سفیر برائے مشرق وسطی نے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ویسٹ بنک میں فلسطینیوں کی زمین پراسرائیل قبضہ ناجائز ہے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ اقدام پریشان کن ہے۔