سینیٹ میں جمعیت علماء اسلام( ف) نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کی مخالفت کر دی

سینیٹ میں جمعیت علماء اسلام( ف) نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کی مخالفت کر دی

اسلام آباد: سینیٹ میں جمعیت علماء اسلام( ف) نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے بعد ان منتخب کونسلوں کے ذریعے ریفرنڈم کے تحت فاٹا کے مستقبل کے تعین کی تجویز دے دی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی نے فوری طور پر حکومتی فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس میں تاخیر کو ایک گھنٹہ بھی نہ دیا جائے فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ سے باغی اور بغاوت کے الفاظ بھی حذف کر دیے گئے ہیں ان الفاظ کی تصحیح کر دی گئی ہے۔


منگل کو سینیٹ ہول کمیٹی کے اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نے واضح کیا ہے کہ فاٹا سیکریٹریٹ، پولیٹکل ایجنٹس اور وزارت سیفران کے قبائلی علاقوں میں کروڑوں روپے کی بلیک اکانومی سے مفادات وابستہ ہیں جب تک اس گٹھ جوڑ کو نہیں توڑا جائے گا قبائلی علاقوں کے سماجی اور معاشی حالات تبدیل نہیں ہو سکیں گے ۔ فاٹا میں انتظامی اور قانونی اقدامات کے تحت قبائلی عوام کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اصلاحات پر بحث سے متعلق ہول کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں ہوا سینیٹر صالح شاہ نے قبائلی عوام سے رائے لینے کا مطالبہ کیا سینیٹر ہدایت اللہ خان نے رپورٹ میں باغی اور بغاوت کے الفاظ کے استعمال پر اعتراض کیا وزیر سیفران نے بتایا کہ ان الفاظ کی تصحیح کر دی گئی ہے۔

سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم خان نے فاٹا سے فاٹا کے روایتی سٹیٹس کو کو توڑنے کی تجویز دی اور کہا کہ جامع اور مفصل رپورٹ تیار ہو چکی ہے اب ہمیں آگے بڑھنا ہو گا انہوں نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں نہ لا کر مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے اب اسکا ازالہ کرنا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ منظم سازش کے تحت قبائل کا تاثر جنگجو کے طور پر ابھارا گیا جان بوجھ کر علاقہ غیر کا نام دیا گیا اور کوشش کی گئی کہ اس پر چرس، اسلحہ کے الفاظ مسلط رہے انکو چوکیدار ، گن مین اور گڑھے کھودنے والا پٹھان اچھا لگتا ہے انکو پختون انجنیئر ، پختون ڈاکٹر ، پختون پروفیسر پسند نہیں ہے کیا اب بھی مظالم کا ازالہ نہیں ہو گا، سی پیک کی طرح دیر سے وزیر ستان تک وسیع شاہراہ تعمیر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کی آبادی ایک کروڑ 25لاکھ ہے اور فاٹا اصلاحات کمیٹی کا چیئرمین میاں رضا ربانی کو مقرر کیا جائے.

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ضم کر دیں اور ایک گھنٹے کی تاخیر بھی نہ کی جائے، تمام جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ستارہ ایاز نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر غیر ملکی امداد کیوں مانگی جا رہی ہے اگر ہم لاہور کو 200ارب روپے دے سکتے ہیں تو کیا ہم فاٹا کی ترقی کے لیے پچاس ارب روپے بھی نہیں دے سکتے کرپشن کی وجہ سے فاٹا کے تمام وسائل ضائع ہو جاتے ہیں اور فاٹا سیکریٹریٹ اس کرپشن کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر قانونی انتظامی اقدامات کیے جائیں اور واضح کیا کہ فاٹا کے لیے جاری فنڈز فاٹا سے دوبارہ ٹریول کر کے اسلام آباد آ جاتے ہیں.

نہال ہاشمی نے تجویز دی کہ برف پگھلی ہے ٹرننگ پوائنٹ ہے ،رپورٹ پر عملدرآمد میں بالکل تاخیر نہ کی جائے قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ کس نے فاٹا کو غیر ملکیوں کی آماجگاہ بنایا سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے وقت کے ساتھ بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ مشران اور ملکان کو فاٹا کی کتنی آبادی کی نمائندگی حاصل ہے اور جس پڑھے لکھے طبقے کی بات کی گئی وہ قبائل کی کتنی نمائندگی کرتے ہیں قبائل میں تعلیم کی شرح کیا ہے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی رائے سارے فاٹا کی رائے ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قبائل سے رائے لینے کا صاف شفاف طریقہ کار وضح کیا جائے بغیر کسی متفقہ رائے کے ہم فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کے مخالف ہیں جمہوری اصلاحات کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹ نشستوں اور سرکاری اور درباری مشران اور ملکان کو بٹھا کر سمجھتے ہیں کہ قبائلی عوام نے رائے دے دی جعلی مشران نہیں بلکہ اصل اور حقیقی رائے کے لیے عام آدمی تک پہنچنا ہو گا اسلام آباد پنڈی کا فیصلہ مسلط کرنے کی بجائے ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے. سرکاری درباری مشران پر انحصار نہ کیا جائے سوال تو یہ بھی ہے کہ صدر کور کمانڈر اور گورنر کا تعلق فاٹا سے کیوں نہیں ہوتا ۔

سینیٹر خالدہ پروین نے کہا کہ نان اسٹیٹ ایکٹر کا رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا فاٹا کی بیواؤں اور یتیموں کی سرپرستی کا بھی ذکرنہیں ہے سینیٹر روبینہ خالد کو ایف سی آر کو بدترین قانون قرار دیا اور کہا کہ رواج ایکٹ اور صوبے میں شمولیت دونوں متصادم ہیں فاٹا کی عوام مظلوم ہے اور آج تک انہیں اپنی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دیا گی،ا ہم مراعات یافتہ طبقہ قبائل کی مشکلات کا ادراک نہیں کر سکتے کیونکہ "جس تن لاگے وہ تن جانے "قبائل خود جانتے ہیں کہ کن حالات سے گزرے ہیں، بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی فاٹا کونسلوں سے قبائل کے مستقبل کے بارے میں اجتماعی طور پر رائے لی جا سکتی ہے۔

سینیٹر ہلال الرحمان نے انہیں تجویز دی کہ مجوزہ قانون کے مسودے سے ہمیں آگاہ کیا جائے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی نگرانی اور احتساب کا نظام وضع نہیں کیا گیا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے بھی کہا کہ اس معاملے پر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھنا ہو گا چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ کاروائی کے دوران فاٹا سے متعلق آئینی قانونی ترقیاتی اور تاریخی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source