امریکی سفارت خانے کی اسرائیل منتقلی، فیصلہ آج ہو گا

تل ابیت: اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ آج متوقع ہے،وائٹ ہائوس ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج فیصلے کا اعلان کر سکتے ہیں۔دوسری جانب سے سعودی عرب ، فلسطین ، اردن ،مراکش ، ترکی ، مصر ، عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خا رجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی ہےتاہم امریکی صدر سعودی عرب ،مصر اور یورپ کے ان رہنمائوں سے رابطے میں ہیں اورمعاملے زیر موضوع ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہاہے کہ ایسا کوئی فیصلہ دو قومی ریاست کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا ،تاہم اعلی ٰ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ آج یرو شلم کو اسرائیل کا دا رلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے تاہم امریکی سفارتخانے کی منتقلی میں 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے ۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے میں کہنا تھا،یہ ایک خطرناک اقدام ہوگا جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا ۔

عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے مشرق وسطیٰ کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا امریکی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہنا تھا ایسا کوئی بھی اقدام امن کو ناکام بنائے گا اور خطے کی سلامتی اور تحفظ کے منافی ہوگا ، تاہم فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام سے خطرات میں اضافہ اور یہ تمام حدود کو پار کرنے کے مترادف ہوگا ۔

اردن کے شاہ عبداللہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا گفتگو کے دوران شاہ عبداللہ نے امریکی صدر کے اقدام پر مسلمانوں کے مشتعل ہونے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کا مسئلہ نہایت اہم ہےتاہم بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا نتیجہ انقرہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے ۔

ادھر فرانس اور جرمنی نے بھی امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ،جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریل نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طے ہونا چاہیے جبکہ فرانس کے صدر پہلے ہی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں ۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام کے نتیجے میں دو قومی ریاست کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا ۔