میانمار فوج کی جانب سےمسلمانوں کی نسل کشی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے ایشیا کے اہم ترینملک میں مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کر لیا

واشنگٹن : اقوام متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین کا کہنا ہے کہ میانمار میں برمی فوجیوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی خارج از امکان نہیں ہے۔جینیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زید رعد الحسین نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو اس وقت تک میانمار واپس نہیں بھیجنا چاہیے جب تک وہاں مستقل بنیادوں پر انسانی حقوق کی صورت حال ٹھیک نہیں ہو جاتی۔

میانمار میں سرکاری افواج کی جانب سے مظالم کے باعث اب تک 6 لاکھ روہنگیا بنگلا دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔زید رعد الحسین نے بتایا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو نشانے لے کر فائرنگ سے قتل کیا گیا، ان کے گھر جلا دیے گئے، گرینیڈ سے حملے کیے گئے، تیز دھار آلات کی مدد سے اور تشدد کر کے مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں میانمار کے سفیر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت بنگلا دیش کے ساتھ مل کر بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کو روہنگیا افراد کے لیے کوئی کیمپس نہیں ہوں گے۔زید رعد الحسین نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے درخواست کی جائے کہ میانمار میں ہونے والے جرائم کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے باقاعدہ مکینزم بنایا جائے۔

یاد  رہے کہ میانمار حکومت کی جانب سے لفظ ’روہنگیا‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کو بنگالی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا کہ یہ لوگ غیر قانونی طور پر بنگلا دیش سے میانمار میں داخل ہوئے۔ دوسری جانب بنگلا دیش بھی روہنگیا افراد کو اپنا شہری تصور نہیں کرتا۔