سعودی عرب، بدعنوانی کے الزام میں گرفتار بیشتر افراد تصفیے پر آمادہ

گرفتار شہزادوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کو زندگی کی سب بڑی خوشخبری دے دی

ریاض :سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے بد عنوانیوں کی حالیہ تحقیقات سے متعلق انسداد بدعنوانی کمیشن کی ابتدائی رپورٹ ایک بیان کی شکل میں جاری کردی ہے جس کے مطابق گرفتار کیے گئے بیشتر افراد نے قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے تصفیے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ 9 نومبر کو گرفتار کیے گئے افراد سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور انسداد بدعنوانی کمیشن نے 320 افراد کو طلب کیا تھا۔کمیشن نے ان میں سے متعدد افراد کے کیس اٹارنی جنرل کو بھیج دیئے تھے۔اس وقت 159 افراد زیرِ حراست ہیں۔

بیان کے مطابق کرپشن کے الزامات میں حراست میں لیے گئے بیشتر افراد نے اپنے اپنے معاملے کے تصفیے سے اتفاق کیا ہے اور اب ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کی جارہی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ”پبلک پراسیکیوشن نے موصول ہونے والی فائلوں کا متعلقہ قانونی طریق کار کے مطابق جائزہ لیا تھا اور ان افراد میں سے ایک محدود تعداد کو زیر حراست رکھنے کا فیصلہ کیا اور باقی کو رہا کردیا تھا۔اب تک جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور جن کے بنک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں،ان کی تعداد 376 ہے۔