بد عنوانی کیس : گرفتار افراد کی نشاندہی پر 320افراد کی طلبی

ریاض:-  پبلک پراسیکیوٹر سعود المعجب نے منگل کو انسداد بدعنوانی ہائی کمیشن کی کارکردگی کی بابت تازہ رپورٹ جاری کردی۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کمیشن نے پوچھ گچھ کیلئے 320شخصیات کو دفتر میں طلب کیا۔

9نومبر 2017ءکے جاری کردہ بیان کے بعد مزید افراد کو بدعنوانی کے معاملات میں پوچھ گچھ کیلئے بلایا ہے۔ نئی شخصیات کی طلبی پہلے سے زیر حراست افرادسے کی جانے والی پوچھ گچھ کے دوران اطلاعات ملنے پر کی گئی۔ یاد رہے گرفتار افراد میں سعودی شہزادے بھی شامل ہیں ۔ کمیشن نے بعض زیر حراست افراد کو پبلک پراسیکیوشن کی تحویل میں دیدیا ہے۔ اب زیر حراست افراد 159ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لی جانے والی بیشتر شخصیات معاملہ نمٹانے پر راضی ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔ پبلک پراسیکیوشن نے قانونی کارروائی کیلئے اپنی تحویل میں آنے والی شخصیات کے معاملات کا جائزہ لیکر چند لوگوں کو حراست میں رکھنے اور دیگر کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

المعجب نے واضح کیاکہ اب تک 376زیر حراست افراد یا متعلقہ شخصیتوں کے بینک اکاﺅنٹ منجمد کئے گئے۔ پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ زیر حراست افراد کی کمپنیاں ، ادارے انسداد بدعنوانی مہم کے تحت ہونے والی تحقیقات سے متاثر نہیںہونگی۔ انکے اداروں اور کمپنیوں کے تحفظ کیلئے مطلوب جملہ اقدامات کرلئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کمپنیوں اور اداروں کے شرکاءکو اپنا کام مالی و دفتری معاملات معمول کے مطابق جاری رکھنے کاموقع دیا گیا ہے۔ جن کے بعض شرکاءبدعنوانی مہم کے تحت زیر حراست ہیں۔ المعجب نے مزید بتایا کہ بدعنوانی کے معاملات سے نمٹنے کے سلسلے میں کارروائی 2مرحلوں پر مشتمل ہے۔

پہلے مرحلے میں زیر حراست افراد کو بدعنوانی کے معاملات کی فائلیں پیش کرکے لوٹی ہوئی قومی دولت سرکاری خزانے میں واپس کرنے کی حامی بھرنے پر چھوڑ دینے کی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میںزیر حراست افراد کو تصفیہ نہ ہونے پر پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا گیا ہے او رکیا جائیگا۔ المعجب نے یہ بھی بتایا کہ زیر حراست افراد کو فوجداری کارروائی قانون کے بموجب متعدد حقوق حاصل ہیں۔

مثال کے طور پر تحقیقات اور مقدمے کے دوران وکیل کی خدمات حاصل کرنا، متعلقہ افراد سے رابطہ کرکے حراست میں لئے جانے کی اطلاع دینا اور عدالتی کارروائی کے بغیر کسی بھی شخص کو 6ماہ سے زیادہ حراست میں نہ رکھنا، کسی پر بھی جسمانی تشدد نہ کرنا، وقار کے منافی معاملہ نہ کرنا شامل ہے۔