پاکستان کی امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنیکی شدید مخالفت

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے مجوزہ فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی مخالفت کر دی ہے۔
وزیراعظم ہاوس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ 'مقدس شہر القدس الشریف کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کردے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام سے مسئلے پر دہائیوں سے موجود عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچائے گا اور خطے میں پائیدار امن کے کسی بھی عمل کو ختم کرنے سمیت خطے کی سلامتی کو بھی زک پہنچائے گا ۔ پاکستان کے عوام اور حکومت امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے خبروں کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'پاکستان اس معاملے پر او آئی سی کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے حتمی فیصلے کی توثیق کرتا ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب رہنماوں کو آگاہ کیا تھا کہ وہ تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس (یروشلم) منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔