2 سالوں میں پاک فوج کے 400افسروں کو سزا دی گئی ہے:ترجمان پاک فوج

2 سالوں میں پاک فوج کے 400افسروں کو سزا دی گئی ہے:ترجمان پاک فوج
سکرین گریب نیو نیوز

راولپنڈی:ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوجی افسرکا احتساب جوان سے زیادہ سخت کیاجاتاہے،سروس سے برطرفی اور جیل کی حد تک بھی پاک افواج میں سزا ہوتی ہے،2 سالوں میں پاک فوج کے 400افسروں کو سزا دی گئی ہے،سزا پانےوالوں میں ہر رینک کا افسر شامل ہے ،انہیں جیل بھی بھیجا گیا،کرپشن ہو  یا بغیر اجازت چھٹی سب پر سزا ہوتی ہے۔


تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے،کنٹرول لائن پرسیزفائرکی خلاف ورزی سے2018 میں 55 شہری شہید جبکہ 300 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہلاپتا 7ہزار افراد کے کیسز میں سے 4ہزار کا معاملہ حل ہوچکاہے، لاپتا افراد سے متعلق کمیشن 2011 میں بنایا گیا تھا، سپریم کورٹ لاپتا افراد کے بارے میں کمیشن کے تحت کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی بہتری کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، میڈیا مالکان کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے،  آج کی فوج ماضی والی فوج نہیں ہے۔شہر  شہر میں پاک فوج شہریوں کی حفاظت کیلیے بیٹھی ہے، دشمنوں نے اس صورتحال کا بہت استحصال کیا ہے،مشرقی سرحد پر مستقل خطرہ ہے، روایتی اور غیر روایتی جنگ بھی ہوئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکا مزید کہنا تھا کہ فوج میں ایک چین آف کمانڈ  اور  ڈسپلن ہے، پاک فوج  کی برانچ کو تھری اسٹار ہیڈ کرتاہے، پاکستان کی افواج منظم فورس ہے، ریاست ماں ہوتی ہے،  اس لیے پی ٹی ایم سے نرم رویہ اختیار کیا، پی ٹی ایم نے تین مطالبات کیے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک سے 32ہزار غیر قانونی ہتھیار ریکور کیے گئے ہیں، 32 ہزار کےقریب غیرقانی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، افغانستان حکومت کا سرحدوں پر پورا کنٹرول نہیں ہے،سرحد پارخطرات ختم ہوجائیں تو اپنی افواج واپس بلالیں، افواج پاکستان نے صورتحال میں بہتری پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پورے ملک میں رد الفساد کے تحت 44بڑے آپریشن کیے گئے ہیں، آپریشن رد الفساد کو دو سال ہونےوالے ہیں، کراچی میں بھتا خوری کے واقعات میں 96 فیصد کمی آئی ہے،  افواج پاکستان کا فوکس بلوچستان پر ہے تا  کہ وہاں بھی حالات بہتر ہوں، بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کیلیے حکمت عملی تبدیل کی ہے ، بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔دو لاکھ سے زائد سیکیورٹی فورسز فاٹا میں تعینات ہیں۔پچھلے 3سال میں 2400فراری قومی دھارے میں شامل ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز جان بوجھ کرعام آبادی کو نشانہ بناتی ہیں، کرتارپور راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی، بھارت سے سکھ یاتری آئیں گے اور واپس چلے جائیں گے، کرتارپور راہداری صرف ون وے ہوگی، روزانہ کی بنیاد پر 4ہزار سکھ یاتری آسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ رینجرز نے قربانیاں دے کر کراچی کی روشنیاں لوٹائی ہیں، 2017 میں کراچی میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔