آغا سراج درانی کو 23 دسمبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا 

آغا سراج درانی کو 23 دسمبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا 
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کراچی: صوبائی دارالحکومت کراچی کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں سپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنماءآغاز سراج درانی کو 23 دسمبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپیکر سندھ اسمبلی آغاز سراج درانی کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ ان کی جانب سے شہاب سرکی ایڈووکیٹ اور عامر رضا نقوی پیش ہوئے جبکہ نیب پراسیکیوٹر زاہد بالادی اور ریفرنس کے تفتیشی افسر حمید اللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ 

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کی ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد انہیں 3 دسمبر کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا ۔ نیب کی جانب سے آغا سراج درانی کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے منظور کرتے ہوئے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ 

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے 13 اکتوبر 2021ءکو ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد آغا سراج درانی ڈیڑھ ماہ تک غائب رہے تھے جس کے بعد 3 دسمبر کو سپریم کورٹ نے انہیں نیب کے سامنے سرینڈر کرنے کی ہدایت کی تھی اور پھر انہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 

نیب کا کہنا ہے کہ آغا سراج کے خلاف ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیر میں کرپشن سے متعلق انویسٹی گیشن جاری ہے،ان کے خلاف بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی لیاری میں غیر قانونی تقرریوں پر بھی انکوائری کا سلسلہ جاری ہے۔