زندگی موت کے کھیل !!

 زندگی موت کے کھیل !!

اداکار افضال احمد کی وفات پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے ”اچانک موت“ کا ذکر کیا تھا۔۔ اچانک موت مرنے والے کے لئے بڑی سہل ہوتی ہے مگر اْس کے عزیز واقارب چونکہ اس اچانک صدمے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے سو اْن کی اذیت ناقابل برداشت ہوتی ہے، البتہ بعد میں وہ ضرور یہ سوچتے ہیں جس سے اْنہیں کچھ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ مرنے والا اپنی زندگی میں بیماری کی کسی آزمائش یا تکلیف سے دو چار نہیں ہوا، موت ایک اٹل حقیقت ہے، جتنے سانس دْنیا میں لکھے ہیں کوئی بڑھا سکتا ہے نہ کم کر سکتا ہے، میرے والد محترم کو جب کوئی ”لمبی عمر“ کی دعا دیتا وہ فرماتے”مجھے جھوٹی دعا نہ دو، جتنی عمر میری لکھ دی گئی تمہاری دعا سے وہ نہیں بڑھے گی، تم مجھے سچی دعا دو اور سچی دعا یہ ہے کہ اللہ آپ کو صحت تندرستی والی اچھی عمر عطا فرمائے“۔۔ میں نے کہیں پڑھا تھا ایک بار حضرت موسی علیہ اسلام نے اللہ سے پوچھا“اللہ اگر میں رب ہوتا آپ موسی ہوتے آپ مجھ سے کیا مانگتے؟“، اللہ پاک نے فرمایا ”موسی میں تم سے صحت مانگتا“۔۔ اس سے صحت کی قدروقیمت کا انسان کو اچھی طرح اندازہ ہو جانا چاہئے پر حالت یہ ہے یہاں لوگوں نے خود کو مال بنانے والی ایک مشین بنا رکھا ہے، وہ صرف دولت کو اہمیت دیتے ہیں، صحت کی کوئی فکر ہی نہیں، صحت کی اہمیت کا احساس اْنہیں تب ہوتا ہے جب وہ بیمار ہوتے ہیں، لالچی لوگ دوران بیماری بھی یہی سوچتے رھتے ہیں کب ٹھیک ہوکے جائز ناجائز طریقوں سے وہ دوبارہ مال و زر اکٹھا کر سکیں گے؟۔۔ گزشتہ روز میرے عزیز بھائی ایس ایم عمران کے عظیم والد محترم، مْلک کے ممتاز اور معروف صنعت کار ایس ایم منیر اچانک انتقال فرما گئے، میں جب اظہار تعزیت کے لئے گیا ایس ایم عمران بتا رہے تھے وفات سے چند لمحے پہلے تک وہ بالکل ٹھیک تھے، اْس روز اْنہوں نے معمول کے مطابق اپنی تمام ذمہ داریاں نبھائیں، کراچی میں صنعت کاروں کی ایک تقریب میں بھی شرکت کی، شام کو گھر واپس آئے، تھوڑی تھکن کا احساس ہوا، ملازم اْن کی ٹانگیں دبا رہا تھا، وہ اْس سے باتیں کر رہے تھے، اچانک ذرا سی کھانسی اْنہیں آئی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔۔ اللہ اپنے پیاروں کو ایسے ہی بڑی آسانی کے ساتھ زندگی سے واپس لے جاتا ہے، جیسے کسی ٹہنی سے اچانک کوئی پھول ٹْوٹ جائے، جیسے بستر پر پڑتے ہی کوئی گہری نیند سو جائے، ایس ایم منیر بہت نیک انسان تھے، انسانیت کی خدمت وہ صرف پاکستان میں نہیں پوری دْنیا میں کرتے تھے، وہ اس حوالے سے بھی انتہائی خوش بخت انسان ہیں خیر کے جو کام اپنی زندگی میں اْنہوں نے شروع کر رکھے تھے وہ چلتے رہیں گے کہ اْن کے صاحبزادوں ایس ایم تنویر اور ایس ایم عمران کو اللہ نے انسانیت کی خدمت کے ویسے ہی جذبوں سے نواز رکھا ہے جیسے جذبوں سے اْن کے مرحوم والد کو نواز رکھا تھا، فلاح کا یہ“چشمہ”ہمیشہ بہتا رہے گا، یہ فیض عام ہمیشہ جاری رہے گا۔۔ ایس ایم منیر صاحب کے انتقال کا دْکھ صرف پاکستان میں نہیں پوری دْنیا میں محسوس کیا گیا، پاکستان کے علاوہ کینیڈا دوسرا مقام تھا جہاں اْن کے چاہنے والوں اور اْن سے فیض حاصل کرنے والوں کی تعداد پاکستان سے بھی زیادہ تھی، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کینیڈا میں مقیم ان گنت لوگوں نے اْنہیں بہت خوبصورت الفاظ سے یاد کیا۔۔ ایس ایم عمران بتا رہے تھے وفات کے بعد اْن کے چہرے پر ایسا اطمنان تھا جیسے کوئی شخص اپنی ساری دینی و دْنیاوی ذمہ داریاں نبھا کے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو گیا ہو، انتقال کا لفظ منتقل سے نکلا ہے، انسان مرتا نہیں ایک عارضی مقام سے ایک مستقل مقام پر منتقل ہو جاتا ہے، دعا ہے اللہ اْن کی اگلی منزل آسان فرمائے جس کا اہتمام مرحوم اپنی میں انسانیت کی خدمت اور لوگوں سے محبت کی صورت میں کر کے گئے ہیں۔۔

جہاں تک ہمارے اداکار افضال احمد کا معاملہ ہے وہ ایک عظیم فنکار تھے، ہمارے سارے فنکار اس لحاظ سے عظیم ہی ہوتے ہیں وہ اس مْلک کا اصل اثاثہ ہونے کے باوجود ناجائز طریقوں سے“اثاثے”نہیں بناتے، اْن کا اصل اثاثہ اْن کا فن ہوتا ہے جو اْن کے مرنے کے بعد بھی نہیں مرتا، افضال احمد ایک انتہائی رعب دار شخصیت کے مالک تھے، ہمارے مرحوم دوست دلدار بھٹی اْنہیں فنکاروں کا وڈیرا کہتے تھے، وہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے، اْن کی کسی بات سے اختلاف کی جرأت کم لوگوں کو ہوتی تھی، فنکاروں کو تو بالکل ہی نہیں ہوتی تھی، وہ خود بھی زیادہ تر ایسی بات ہی کرتے جس سے سب اتفاق کر لیتے، وہ فیروز پور روڈ پر واقع تماثیل تھیٹر کے مالک تھے، مقبول ترین ڈراموں میں اس تھیٹر کا ایک منفرد مقام تھا بلکہ طْوطی بولتا تھا، لاہور کے محفل تھیٹر کے بعد جس تھیٹر کو عالمی سطع کی مقبولیت ملی وہ تماثیل تھا، بڑے بڑے مقبول اسٹیج ڈرامے یہاں چلتے رہے، نرگس اور دیدار ایک زمانے میں اسٹیج ڈراموں کی جان ہوتی تھیں اور تماثیل اْن کی جان ہوتا تھا، ٹکٹ لینے کے لئے شائقین کی قطار اس قدر طویل ہوتی تھی اکثر اوقات سڑک پر ٹریفک جام ہو جاتی، اپنے تھیٹر تماثیل کے کچھ ڈراموں میں افضال احمد نے خود بھی کام کیا، مگر اْن کی اصل شناخت ٹی وی ڈرامے اور فلم تھی، جو کردار اْنہیں سونپا جاتا اس میں جان ڈال دیتے، ایک لمحے کے لئے احساس نہیں ہوتا تھا وہ اداکاری ہے یا حقیقت ہے، اْن جیسا ورسٹائل اداکار اب شاید ہی پیدا ہوگا، دعا ہے اْن کی اگلی منزل بھی اللہ آسان فرمائے۔۔ ایک طویل عرصے تک وہ فالج کی آزمائش سے دوچار رہے، ممکن ہے اْن کے علاج معالجے یا خدمت میں اْن کے بچوں یا دیگر عزیز و اقارب نے کوئی کسر نہ چھوڑی ہو مگر جنرل ہسپتال لاہور میں اْن کے آخری وقت کی جو تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں بہت تکلیف دہ تھیں، جس بیڈ پر وہ بے سدھ اور بے ہوش پڑے تھے ایک اور مریض بھی اْس پر پڑا تھا، بے بسی کی ان تصویروں سے ایک تو ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کا ایک بار پھر پتہ چل گیا دوسرے یہ حقیقت بھی ایک بار پھر کْھل کر سامنے آگئی ہمارے ہاں اکثر فنکاروں کو صرف پہچانا جاتا ہے اْن کی قدر نہیں کی جاتی۔۔ کیا جنرل ہسپتال میں کسی کو یہ نہیں بتایا گیا ہوگا کہ یہ مْلک کے عظیم ترین فنکار افضال احمد ہیں؟ کیا اس عظیم ترین فنکار کے مقابلے میں کوئی ایم این اے کوئی ایم پی اے اْس کا کوئی عزیز یا لیلا چیلا ہوتا اْس کے ساتھ بھی جنرل ہسپتال کی انتظامیہ یا موقع پر موجود ڈاکٹرز یہی سلْوک کرتے جو افضال احمد سے کیا؟ میں نے یہ تصویریں جب سوشل میڈیا پر لگائی اور وزیراعلی پرویز الٰہی کو بھیجیں فوراًساری انتظامیہ متحرک ہوگئی، سیکریٹری صحت کو خود ہسپتال پہنچنے کی ہدایت کی گئی مگر بہت دیر ہوچکی تھی، جنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے مجھے اطلاع دی افضال احمد ابھی ابھی وفات پاگئے ہیں۔۔ ظاہر ہے یہ ایک افسوس ناک خبر تھی مگر میرے لئے حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا میں نے جب ہسپتال میں پڑے افضال احمد کی تصویریں اپنی فیس بْک وال پر لگائیں کئی لوگوں نے مجھ سے رابطہ کر کے پوچھا ”ہیں افضال احمد ابھی زندہ تھے؟“، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، لوگوں کے بے حسی کا یہ عالم ہے اپنے زمانے کے بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں اْنہیں معلوم ہی نہیں وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔