ننھی کلیوں کی حفاظت کیلئے مناسب قانون سازی کی ضرورت

گزشتہ دنوں کئی منافقانہ رویوں کی ترجمانی دیکھنے میں آئی ۔ یہ ترجمانی کرنے والے پاکستان کے مرد حضرات تھے ۔قصور میں زینب نامی بچی جسے زیادتی کا نشانہ بنا دینے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا ۔ اس فعل کے خلاف بولنے والا کوئی زینب کے لیے انصاف کا طلبگار تھا ' ٗکوئی اغواہ کاروں کو گالم گلوچ کرنے میں مصروف دکھائی دیا ٗ کسی نے نظم لکھ ڈالی ٗ گویا کہ ہر شخص ہی اپنا حصہ ڈال رہا ہے ۔


یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ اس حادثہ پہ درد دل رکھنے والے بیس فیصد لوگ تھے جبکہ 80 فیصد میں اس واقعہ کے بعد بھی سدھار نہ آسکا ۔ درندے عمران کا پکڑا جانا اور وزیر اعلی کا اپنی کامیابی کا جشن ' پھر ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں مختلف سوالات سر اٹھانے لگے ۔ کیا یہ چار دن کا شور تھا جو آخر کار اختتام پذیر ہوا ؟۔


یہ ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک رویہ بن چکا ہے کہ کسی بھی واقعہ پر ہم شور و غل مچاتے ہیں مگر جلد ہی بھول جاتے ہیں۔ ہر نئے دن مملکت خدادا میں پانچ سے ستر سال کی عمر کو پہنچنے والی خواتین مرد کی جنسی ہوس کا شکار بنتی ہیں ۔ ننھی زینب کی اجلی تصاویر نے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی لیکن اکثر واقعات سرد مہری کی راکھ میں دفن ہو جاتے ہیں۔ کبھی متاثرہ لڑکی کے والدین خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ٗ اکثر متاثرہ خاتون خود اپنی عزت کو محفوظ رکھنے کے لیے چپ ہو جاتی ہے اور اگر شاذ و نادر کبھی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی یا خاتون زندہ بچ بھی جاتی ہے تو اسکی زندگی پر ایک دھبہ لگ جاتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی دھبے کے ساتھ گزرتی ہے۔


یہ کام ہر روز پاکستان بنگلہ دیش اور انڈیا میں ہوتا ہے ۔جہاں لڑکیاں اور خواتین جنسی ہوس کا شکار ہو رہی ہیں اور خاموشی اختیار کر لیتی ہیں ۔ یہاں تک کہ زیادہ تر لڑکی یا خاتون کے گھر والے بھی اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ انکی بہنیں ٗ بیٹیاں یا بیوی جنسی ہوس کا شکار ہو چکی ہے ۔


جنسی ہوس کا شکار بننے والی خواتین میں جیل میں مقیم قیدی خوا تین ' ٗ سیاستدانوں کی تسکین بننے والی خواتین ' ٗپیروں کی مریدی میں آئی خواتین ٗ 'بھیگ مانگنے والی خو ا تین اور بچیاں ' ٗمحکمہ جات میں اور زندگی کے دیگرشعبوں میں کام کرنے والی خواتین ٗگھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین شامل ہیں ۔یہاں تک کہ عورت جہاں پہ بھی مجبور اور بے بس ہے وہ مرد کی جنسی ہوس کا بہت ہی آسانی سے شکار ہو جاتی ہے ۔اکثر مرد کی محبت کے جھانسے میں آئی خواتین بھی جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ۔


مرد یہ جانتے ہوے بھی کہ اسکی چند لمحات کی تسکین سے ایک بچی لڑکی یا خاتون کی پوری زندگی برباد ہو سکتی ہے اپنا ارادہ ترک نہیں کرتا ۔نا صرف عورت بلکہ بچے اور خواجہ سرا بھی اس ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔یہ ایک زینب کا رونا نہیں ہے ۔یہاں کتنی ہی زینب قربان ہوئی ہیں اور نا جانے کتنی ہی قربان ہوتی رہیں گی ۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ من حیث القوم ہم اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کیلئے کوئی قانون سازی کریں۔ آج ڈی این اے کی مدد سے ننھی زینب اور اسما کے ملزموں تک رسائی ہو چکی ہے لیکن کیا پتہ کل کہ عدالت میں یہی ڈی این اے کا ثبوت قانون سازی کیلئے موذوں کا ٹھہرے۔

مصنف کے بارے میں