سات ہزار سے زائد پاکستانیوں کی دبئی میں 11 سو ارب کی جائیدادیں

سات ہزار سے زائد پاکستانیوں کی دبئی میں 11 سو ارب کی جائیدادیں


دبئی : سات ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کے دبئی میں 11 سو ارب روپے سے زیادہ کی جائیدادیں بنانے کا انکشا ف ہوا ہے جن میں سے 95 فی صد افراد نے پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشواروں میں کچھ نہیں بتایا۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کے پاس اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ یہ پیسہ پاکستان سے دبئی کیسے گیا۔


تفصیلات کے مطابق دبئی میں جائیدادیں بنانے والوں میں سیاست دان، اداکار، وکلا، ڈاکٹر، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات اور بینکر بھی شامل ہیں۔ گذشتہ کچھ سالوں میں 11 سو ارب روپے سے زائد رقم خاموشی سے پاکستان سے دبئی منتقل کردی گئی جبکہ متعلقہ اداروں کے علم میں لائے بغیر پیسوں کی منتقلی غیر قانونی اور مشکوک ہے۔


رپورٹ کے مطابق تقریبا 7 ہزار پاکستانیوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دبئی میں جائیدادیں خریدیں، جن میں سیاست دان، اداکار، وکلا، ڈاکٹرز، بیوروکریٹس، کاروباری حضرات اور بینکرز کے علاوہ چند میڈیا مالکان، ریٹائرڈ جرنیلز اور ریٹائرڈ ججز بھی شامل ہیں۔تحقیقات کے مطابق اس مجموعی تعداد میں سے تقریبا 780 پاکستانی دہری شہریت رکھتے ہیں یا پھر وہ پاکستان سے باہر مقیم ہیں جبکہ باقی 6 ہزار سے زائد پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔


تحقیقات کے مطابق پاکستانیوں نے تقریبا 967 ولاز یا رہائشی عمارتیں گرینز کے علاقے میں خریدیں، پاکستانیوں کے 75 قیمتی ترین فلیٹس ایمریٹس ہلز، 165 جائیدادیں ڈسکوری گارڈنز میں ، 167 فلیٹس جمیرا آئی لینڈ، 123 گھر جمیرا پارک، 245 فلیٹس جمیرا ولیج، 10 جائیدادیں پام ڈیرا، 160 پام جبل علی، 25 جائیدادیں پام جمیرا شور لائن، 234 جائیدادیں انٹرنیشنل سٹی اور 230جائیدادیں سلیکون ویلی میں ہیں۔دستاویزات کے مطابق دبئی کی ان جائیدادوں کی مالیت کم از کم 10 لاکھ درہم سے شروع ہوکر ڈیڑھ کروڑ درہم تک ہیں، جن کی مالیت 3 کروڑ پاکستانی روپے سے لے کر 45 کروڑ روپے تک بنتی ہے۔