اسلام آباد کار حادثہ: کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان خان کا  تازہ ترین بیان سامنے آ گیا

اسلام آباد کار حادثہ: کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان خان کا  تازہ ترین بیان سامنے آ گیا

اسلام آباد: افسوسناک کار حادثے میں کشمالہ طارق کے بیٹےاذلان خان کا تازہ ترین بیان بھی سامنے آ گیا۔

تفصیلات کے مطابق اذلان خان نے سوشل میڈیا  پر لکھتے ہوئے کہا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو لوگ حادثے میں چار معصوم افراد کے جاں بحق ہونے کا انہیں قصور وار ٹھہرا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گاڑی وہ چلا رہے تھے ایسے افراد کو چاہیے کہ پہلے تحقیق کریں اور پھر بات کریں۔ اذلان نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونیوالی گاڑی کو وہ نہیں چلا رہے تھے ، اسلام آباد پولیس کے پاس فوٹیج بھی موجود ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ ہم لاہور سے آرہے تھے جب حادثہ پیش آیا تووالدین کو بچانے کیلئے گاڑی کی طرف بھاگا جو  زخمی حالت میں تھے ۔

  

اذلان خان نے اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں حادثے کا قصور وار ٹھہرا کر الزام تراشی نہ کی جائے ، جومعصوم لوگ اس حادثے میں چلے گئے ان کو واپس نہیں لایا جا سکتا ، یہ بہت دل گرفتہ صورتحال ہے ، لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک حادثہ تھا جو کہ جان بوجھ کر نہیں ہوا ، اس واقعے کا ایلیٹ کلچر سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ،ایسا سوچنا درست نہیں کہ طاقت اورپیسے والے لوگ انسان نہیں ہوتے، ہم سب سے پہلے انسان ہیں اور اپنے اندر انسانیت بھی رکھتے ہیں۔اذلان خان نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے الزامات کی بھی تردید کی اور لکھا کہ وہ آخر تک وہاں موجود رہے اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے پر کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل گاڑی کی ٹکر سے چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی تھی کہ جاں بحق ہونیوالے افراد کی گاڑی سے ٹکرانے والی کار کو کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان خان چلا رہا تھا، تاہم پولیس نے مقدمے میں اذلان خان کو نامزد بھی کیا، پولیس کی جانب سے اذلان خان کو گرفتار کرنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے لیکن ناکام رہی تھیں۔ 

بعد ازاں کشمالہ طارق کے بیٹے کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پچاس ہزار کے مچلکے جمع کرانے پر اذلان خان کی عبوری ضمانت کے احکامات جاری کئے۔ 

خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے سری نگر ہائی وے پر گزشتہ دنوں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ جاں بحق افراد کی کار کو وفاقی محتسب کشمالہ طارق کے قافلے میں موجود ایک گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ جاں بحق ہونے والے چاروں افراد دوست اور مانسہرہ کے رہائشی تھے۔ یہ نوجوان سرکاری نوکری کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد آئے تھے لیکن افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر دنیا سے کوچ کر گئے۔ حادثے کے وقت کشمالہ طارق، ان کے شوہر اور ان کا بیٹا بھی گاڑی میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ حادثے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے، میرے ساتھ منسوب لوگوں کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم عمران خان سے التجا کی کہ وہ اصل حقائق جاننے کیلئے حادثے کی مکمل ویڈیو خود دیکھیں تو انھیں پتا چلے گا کہ ہماری جس گاڑی سے ٹکر ہوئی اس میں میرا بیٹا موجود ہی نہیں تھا۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔