مریم نواز نے لندن فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا الزام کو مستردکر دیا

مریم نواز نے سپریم کورٹ میں اپناجواب جمع کرادیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی نام نہاد پاناما پیپرز کا حصہ نہیں،نیسکول سےان کا نام جوڑنا سراسر ظلم ہے، جبکہ نیسکول کی ڈیڈ پر ان کے دستخط بھی جعلی ہیں ۔سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی نام نہاد پاناما پیپرز کا حصہ نہیں ہیں، نیسکول سے ان کا نام جوڑنا سراسر ظلم ہے۔ نیسکول کی ڈیڈ پر ان کے دستخط جعلی ہیں۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ رائے ونڈ اسٹیٹ کی زیادہ تر جائیداد دادی کے نام پر ہے، رائے ونڈ اسٹیٹ میں 5گھر ہیں،اس میں پانچواں گھر ان کے پاس ہے،چوتھا گھر دوسرے چچا میاں شہباز شریف کے پاس جبکہ تیسرا گھر مرحوم چچا عباس شریف کے خاندان کے پاس ہے،ایک گھر دادی کے پاس جبکہ ایک گھر والد اور والدہ کے پاس ہے ، مریم نواز نے اپنی آمدن سے متعلق بتایا ہے کہ انہوں نے ایف بی آر میں آمدن سے متعلق تمام ٹیکس ریٹرن جمع کروائے،2016 میں ان کی زرعی آمدنی ایک کروڑ16لاکھ 38 ہزار867روپےتھی، جبکہ دیگر آمدنی 4 لاکھ 89 ہزار 911 آمدن تھی، 2015 میں 9 لاکھ 73 ہزار 243 روپے آمدن تھی، 2014 میں 12 لاکھ 59 ہزار 132 روپے جبکہ 2013 میں 2 لاکھ 26 ہزار 40 روپے آمدن تھی، ان کی 2012 میں آمدن ایک لاکھ 46 ہزار 491 روپے تھی۔

مصنف کے بارے میں