پاناما کیس اہم موڑ میں داخل : سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ، سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے پیسہ کہاں سے آیا یہ بتایا شریف فیملی کی ذمہ داری ہے۔ بظاہر لگتاہے فلیٹس خاندانی سرمائے سے خریدے گئے ،جبکہ پی ٹی آئی کےوکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ لندن فلیٹس کے اصل مالک نوازشریف ہیں ،دنیا کو دکھانے کے لیے مریم نواز کو بینیفشری ظاہر کیا گیا۔

پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری ے آج بھی دلائل کاسلسلہ جاری رکھا ،ان کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس 1993 سے 1996کےدرمیان خریدےگئے، مریم نوازکو آف شور کمپنیوں کا بینیفشری اونر ظاہر کیا گیا،جب فلیٹ خریدے گئے تب مریم کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھاجبکہ فلیٹس کےاصل مالک نوازشریف ہیںدبئی میں بھی بے نامی اسٹیل مل لگائی گئیجس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہناتھا کہ اصل سوال ریکارڈ کا ہے۔ اگروہ کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرتےہیں تودستاویزدینابھی انکی ذمہ داری ہے،عدالت نے نعیم بخاری سے کہا کہ آپ تفصیل نے دیں گے تو دستاویزات ادھوری ہونگی ۔ دستاویزات سے متعلق عدالت کو مطمئن کریں ،ٹرسٹ ڈیڈ کا قانونی ہونا بھی ایک سوال ہے،صرف بے نامی کہہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے سوال اٹھایا کہ کیا تحفے میں دی گئی رقم بے نامی ہو جاتی ہے،اس معاملے میں تنازع صرف ٹرسٹی اور بینی فیشل مالک کا ہے،جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ بخاری سماعت  آپ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہیں ۔ تاہم آپ کی بات مریم کےزیرکفالت ہونےکامعاملہ واضح نہیں ہوتا، لندن فلیٹس مریم نواز کو کب اور کیسے منتقل ہوئے؟ جبکہ التوفیق کیس میں مریم نواز کا نام نہیں تھا۔ آئین کےتحت کچھ آپ کوبھی ثابت کرناہے،نعیم بخاری کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ۔

مصنف کے بارے میں