کم سن گھریلو ملازمہ تشدد کیس کی سماعت11جنوری تک ملتوی

اسلام آباد: کم سن گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں سپریم کورٹ نے11جنوری تک طیبہ اور اس کے حقیقی والدین کو پیش کرنے کاحکم دے دیا۔ ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ
بنیادی انسانی حقوق کے معاملات پر راضی نامے نہیں ہوسکتے ،انہوں نے ڈی آئی جی کو ہدایت کی ہے کہ صرف سچ کو سامنے لائیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی عدالت نے بچی اور حقیقی والدین کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔دو رکنی بنچ نے جج کی اہلیہ ماہین ظفر کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت دے دی۔

،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی انسانی حقوق کے معاملات پر راضی نامے نہیں ہوسکتے ،بچی کے تشدد کے معاملے پر راضی نامہ کیسے کردیا گیا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بچی کے والدین ہونے کے دعویداروں کےڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں۔ سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس نے دو ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے 3دن میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم سنا دیا،،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا،چاہتے ہیں کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے،تا کہ ثبوت ضائع نہ ہوں، عدالت نےڈی آئی جی اسلام آباد کو پولیس کی اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ صرف سچ کو سامنے لایا جائے۔

مصنف کے بارے میں