امریکہ ہوش کے ناخن لے

ہمارے علماء اور سیاستدان اکثرفرماتے ہیں کہ جہاد کا اعلان صرف حکومت کا کام ہے۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان میں جہاد کا اعلان امریکی صدر کرتے ہیں۔ جہاد افغانستان وہ واحد جنگ ہے جس کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ ایک عالمی طاقت کو زمین بوس کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اللہ کی زمین پر فساد امریکیوں نے شروع کیا اور ایک اسلام دشمن پاکستانی صدر نے اس کی حمایت کی۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کو سچ بولنے پر گھر جانا پڑا آج وہی سچ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کہہ رہی ہے کہ یہ جنگ امریکہ کی جنگ تھی ہماری نہیں پھر ہم نے 75ہزار پاکستانی فوجی اور شہری جانیں کیوں قربان کیں۔ اس جنگ میں مرنے والے کیا امریکہ کی خوشنودی کے لئے مروائے گئے۔ اگر اس جنگ میں ہمارا کردار کرائے کے قاتل والا نہیں تھا تو کیوں امریکہ آج ہمیں یہ کہتا ہے کہ اس نے ہمارا ضمیر ، ہماری قومی غیرت اور ہمارے بچوں کی جانیں 33ارب ڈالر میں خریدی ہیں اور اگر پاکستان نے قربانیاں دی ہیں تو مفت نہیں دیں امریکہ نے پیسے دئے ہیں اور اگر پاکستانی حکومت اپنے عوام اور اسلامی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی اشارے پرمزید افغانی بھائی مارے گا تو اسے اور پیسے ملیں گے۔ وہ لوگ کس منہ سے جہاد کا نام لیتے ہیں جو امریکی دھمکی پر سیدھے لیٹ گئے۔ آج تورا بورا والے افغان طالبان ہم سے زیادہ عزت دار ہیں کہ امریکہ ان سے تو برابری کی سطح پر مذاکرات چاہتا ہے لیکن ہم سے غیر انسانی سلوک کر رہا ہے۔ ہمارے سیاست دان اور فوجی سربراہ بتا دیں کہ یہ کیسا جہاد ہے؟۔

جنرل ضیاء الحق کا دور اچھا تھا ۔ اس دور میں ہمیں اپنی افواج پر فخر تھا اور لبرل بھی فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے عظیم لوگ تھے آج کے خونی لبرل دیکھ کر اس قوم پر رونا آتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ جمہوری بھی ایسے کہ اکبر بادشاہ شرما جائے۔ کب تک ہم عوام سے جھوٹ بولتے رہیں گے۔ حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھیں تو لگتا ہے ہم دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس چند ماہ سے زیادہ کے پیسے نہیں بھکاری تیار ہیں اور دنیا کپڑے اتارنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ظلم کی انتہاء ہے کہ گاو رکشک والا مودی کا انڈیا تو امریکی واچ لسٹ پر نہیں پر پاکستان ہے۔ یہ تو بھیڑئے اور بھیڑ والا واقع ہو گیا۔ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو بھیڑ کس نے بنایا۔ مشرف کو کس نے بچایا اور نوازشریف کو کون بچانا چاہتا ہے۔

افغان مہاجر جو پچھلے چالیس سالوں سے اس ملک میں ہیں اب ہمارے شہری ہیں ان کے بچے یہاں پیدا ہوئے انہوں نے افغانستان دیکھا تک نہیں ان میں جو چاہیں انہیں پاکستان کی شہریت دی جائے تاکہ وہ بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اگر ہم نے ایک عظیم ملک اور قوم بننا ہے تو ہمیں یہ سخت فیصلے کر نا ہونگے نہیں تو ہر کوئی لوٹ مار کو کاروبار اور قتل و غارت گری کو انصاف سمجھنا شروع ہو جائے گا۔ کوٹا سسٹم ختم کیا جائے۔ اور تمام کاروباری افراد کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں اپنے منظور نظر افراد کو ٹیکس کی چھوٹ اور عام عوام پر سرکاری غنڈے چھوڑنے کا رواج ختم کیا جائے۔ نیٹو کی طرز پر اسلامی فوج اور اقوام متحدہ کی طرز پر اسلامی بلاک بنایا جائے کیونکہ اس دنیا میں رہنے والا ہر مسلمان ہماری تباہی پر غمزدہ اور ہماری ترقی پر خوش ہوتا ہے۔ آج فلسطین ، کشمیر اور برما کے مسلمان ہمیں آواز دے رہے ہیں تو صرف اسلام کی وجہ سے آج سعودی عرب ، ترکی اور مصر ہماری آواز پر لبیک کہتے ہیں تو صرف مسلمان ہونے کے ناطے۔ آج ٹرمپ اور مودی کی گالیوں کے بعد غلاموں جیسی زندگی سے تو موت اچھی ہے۔ مرنا بر حق ہے کتے کی موت مرنے سے شیر کی مت کو ترجیح دو۔ اگر امریکہ تمہیں دھمکی دیتا ہے تو جواب میں گھٹنے ٹیک دینے سے وہ تمہیں معاف کر دے گا۔ وہ تمہاری امداد بند کرتا ہے تو اس سے زمینی اور فضائی راستے واپس لے لو۔ تم سے تو شمالی کوریا اچھا ہے ڈٹا ہوا ہے اس فرعون کے سامنے مورخ کیا لکھے گا کہ پاکستانی قوم نے امریکی فرعون کے سامنے کیا کیا۔ یہ یاد رکھو کہ سپین کے ان مسلمانوں کو جو عیسائی ماوں کے تھے اور عیسائیوں کو اپنا بھائی تصور کرتے تھے عربوں کو قتل کرنے کے بعد عیسائی بادشاہ فرنینڈس اور اس کی ملکہ ایزابیلا نے عیسائی ہو جائو یا ملک چھوڑ دو کی شرط رکھی تھی۔ حق اور سچ کا ساتھ دو اور فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو۔ قائد اعظم نے فرمایا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ شائد میری زندگی میں پاکستان نہ بن سکے لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ مر کر جب اپنے رب کے سامنے جاوں تو وہ مجھے کندھے پر شاباش دے کر کہے جناح تم نے اچھا کا م کیا‘‘۔

مصنف کے بارے میں

اشعر غزال شاکر

اشعر غزال شاکر کو صحافت کی وادی کارزار میں ایک دہائی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ کئی قومی اخبارات میں کالم نگاری کر چکے ہیں اور نیو نیٹ ورک کے مستقل بلاگر ہیں۔