منی بجٹ۔۔عوام کامزیدامتحان نہ لیں

منی بجٹ۔۔عوام کامزیدامتحان نہ لیں

منی بجٹ یہ انتہا ہے، اس سے آگے اب کچھ نہیں رہا۔اب بھی اگرکوئی یہ سوچتایاسمجھتاہے کہ قابل عزت امیرالمومنین ان کے لئے کچھ کرپائیں گے تویہ ان کی بھول صرف بھول ہی ہے۔ہم نے طورطریقے،ڈھال چال اوراندازدیکھ کربہت پہلے ہی کہہ دیاتھاکہ سونامی کے اس موسم میں کہیں سے خیرکی کوئی امیداورتوقع نہیں رکھنی چاہئے لیکن کچھ نادان پھربھی یہ سوچ اورسمجھ رہے تھے کہ آج نہیں توکل کپتان ان کے لئے آسمان سے تارے توڑکرلے آئیں گے۔کپتان آسمان سے تارے توتوڑکرنہیں لائے البتہ مہنگائی،غربت،بیروزگاری اور بھاری بھرکم بجلی وگیس بلوں کی صورت میںوہ جوسوغات لیکر آئے ہیں وہ بھی آسمانی تاروں سے کچھ کم نہیں۔اسی وجہ سے تواب عوام کے ساتھ خواص کوبھی دن میں تارے ہی تارے نظرآرہے ہیں۔منی بجٹ کی صورت میں اب کپتان آسمان سے جوایک بہت بڑااورتازہ تاراتوڑکرلائے ہیں،  اس کے بعدبھی اب اگرکوئی ان ایماندارحکمرانوں سے کسی خیراوربھلائی کی کوئی امیداورتمنارکھتاہے توان کوایک باراپنے دماغ کااک چھوٹاسا ٹیسٹ ضرور کرنا چاہئے۔ جوکپتان تین سال میں عوام کے لئے کچھ نہ کرسکے وہ اب کیاکرلیں گے۔؟ لوگ تین سال سے مہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کی آگ میں جل رہے ہیں لیکن کپتان اورکپتان کے نیک وپارسا وزیراورمشیربجائے اس آگ کوبجھانے کے اس پرتیل چھڑک کرہواپرہوادے رہے ہیں۔منی بجٹ یہ آگ پرتیل چھڑکنانہیں تو اور کیا ہے۔؟ لوگ پہلے سے مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے ہاتھوں بھوک وفاقوں سے مررہے ہیں اوریہ ظالم اوپرسے منی بجٹ اورنت نئے ٹیکسزکے ذریعے ان کے ناتواں کندھوں پرمزیدبوجھ لادتے اورڈالتے جارہے ہیں۔منی بجٹ کے حق میں دلائل دینے اورکپتان کے گیت گانے والوں کوکیاپتہ۔؟کہ بھوک کی سختی اور غربت کی سختی کیا ہوتی ہے۔؟ صبح وشام ٹی وی پرمنی بجٹ اورحکومت کے فضائل سنانے والوں کوکیااندازہ کہ اس ملک میں آج غریبوں پرکیاگزررہی ہے۔ کپتان،ان کے کھلاڑیوں اوروزیروں ،مشیروں کے لئے توواقعی کوئی مسئلہ نہیں ۔ایک نہیں اس طرح کے ہزاروں منی بجٹ بھی آئیں تب بھی ان کے گھروں کے چولہے جلتے اوران کے پیٹ بھرتے رہیں گے لیکن مسئلہ توپانچ دس فیصدکونکال کرباقی ان نوے 

فیصدکے لئے ہے جوآج بھی آٹا،چینی،دال اورگھی کے بھائوسے باہرنہیں نکل پارہے۔غریبوں کی زندگی تو آٹے سے شروع ہوکردال اورچینی پرختم ہوتی ہے۔اب انہیں اگرآٹا،چینی،دال اورگھی بھی نہ ملے توخودسوچیں ان کے شب وروز پھر کیسے گزریں گے۔؟ مہنگائی پہلے کیاکچھ کم تھی کہ اوپرسے ان غریبوں پرمنی بجٹ کابم بھی گرادیاگیا۔کپتان کی نیت پرہمیں شک نہیں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ جوکچھ کپتان کی حکمرانی میں اس ملک کے اندرغریبوں کے ساتھ ہورہاہے وہ عوام کاکوئی حکمران ومہربان نہیں کرسکتا۔حکمران تواپنی رعایا کو ہر معاملے میں صرف رعایت نہیں دیتے بلکہ ان کی مکمل دیکھ بھال اورروزمرہ ضروریات کاخیال بھی رکھتے ہیں۔یہ کیسے حکمران ہیں کہ جوتین سال سے رعایاکاہی خون چوستے جارہے ہیں۔کیاموجودہ حکمرانوں کاعوام پرمہنگائی کے بم برسانے اورانہیں بھوک،افلاس اورفاقوں سے مارنے کے علاوہ اورکوئی کام نہیں۔حکمران رعایاکے منہ سے اس طرح بجٹ اورمنی بجٹ کے ذریعے نوالے چھینتانہیں بلکہ وہ بھوک،افلاس،غربت اورفاقوں کے مارے عوام کے منہ میں نوالے ڈالتاہے۔اپنی ہرتقریرمیں ریاست مدینہ کاتصوراورخاکے پیش کرنے والے کپتان کیا۔؟حضرت عمرفاروقؓ کی حکمرانی اوراندازحکمرانی کوبھول گئے ہیں۔ہمارے کپتان ۔۔آپ کوشائدعلم نہیں یاآپ کے آس پاس واطراف میں گھومنے پھرنے والے ان حکومتی مولوی صاحبان نے آپ کوبتایانہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ صرف دن کی روشنی میں حکومت نہیں کرتے تھے بلکہ وہ راتوں کواٹھ کررعایاکی خیرخیریت بھی معلوم ودریافت کیاکرتے تھے۔وہ سنگ مرمرسے بنے تین سوکنال کے کسی محل اورتاج محل میں اس طرح شاہانہ زندگی نہیں گزارتے تھے بلکہ وہ راتوں کواٹھ کررعایامیں شامل ایک فردفرد،ایک ایک گھراورایک ایک درکی حفاظت وچوکیداری کافریضہ بھی سرانجام دیتے تھے۔ان کی حکومت اورخلافت میں مغرب سے مشرق اورشمال سے جنوب تک رعایامیں کون کس حال میں ہے۔حضرت عمرفاروقؓ سے بہتریہ کوئی نہیں جانتاتھا۔کپتان کی حکمرانی میں آج اس کی رعایا کا کیا حال ہے۔؟کیاکوئی بھوک سے بلک تو نہیں رہا۔؟ کیاکوئی بغیرچھت کے کھلے آسمان تلے شب تونہیں گزاررہا۔؟کیاکوئی فقروفاقوں کے باعث اپنے بچوں کوقصے وکہانیاں سناکران کوبھوکاتونہیں سلارہا۔؟ کیاکوئی بجلی وگیس کے بھاری بلوں اورغربت کے ہاتھوں اپنے گلے میں پھنداتونہیں ڈال رہا۔؟کیاکوئی علاج کی سکت وطاقت نہ رکھنے کی وجہ سے ایڑھیاں تونہیں رگڑرہا۔؟ کیاکوئی بستراورچادرنہ ہونے کی وجہ سے سردی سے ٹھٹھرتونہیںرہا۔؟کیاکوئی بوڑھی ماں،کوئی بیوہ بہن اورکوئی یتیم بیٹی اپنے معصوم بچوں کاپیٹ پالنے یابھرنے کے لئے امیرالمومنین کی راہ تونہیں دیکھ رہی۔؟ واللہ کہ کپتان کوآج اپنی اس رعایا کی کوئی خبر اور کوئی پروا ہو۔ خبر اور پروا تو دور کپتان کواگررعایاکاذرا بھی کوئی احساس ہوتاتووہ ان غریبوں پرمنی بجٹ کے ذریعے اس طرح مہنگائی کی بمباری نہ کرتے۔منی بجٹ یہ اس بات کی گواہ اورغمازہے کہ کپتان کواس ملک میں رہنے والے 22کروڑکیڑے مکوڑوں کی کوئی خبرہے اورنہ ہی کوئی پروا۔جس شخص کوعوام کی فکر،پروا اورخبرنہیں ۔ان سے کسی خیراوربھلائی کی امیدرکھنایہ اپنے پائوں پرکلہاڑی مارنے کے سواکچھ نہیں۔ کپتان کی تاریخی حکومت تین سال سے اپنے بے مثال کارناموں کے ذریعے غریبوں کاامتحان لے رہی ہے۔ ماناکہ اس ملک میں غریبوں کاکوئی نہیں۔ حکومت والے ہے یااپوزیشن والے سب کو اپنا مفاد عزیزاورہرکوئی اپنی سیاست اورمنافقت کا کھیل کھیل رہاہے لیکن غریب اتنے بے آسرا تو نہیں۔جن کاکوئی نہیں ہوتاان کا خدا تو ہوتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ منی بجٹ جیسے ان حکومتی مظالم کو غریب اپنی فریاد،آہ وبکا، چیخ وپکار، آہوں، سسکیوں اوررونے دھونے کے ذریعے نہیں روک سکتے ۔یہ حکومت کی مرضی ہے کہ وہ ان غریبوں پرمنی بجٹ کاکوئی بم برسائے یامہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کاکوئی خودکش حملہ کرائے لیکن ایک بات یادرکھیں کہ ان غریبوں کابھی ایک دن آئے گااورضرورآئے گاجب بروزمحشرخداکی عدالت میں ان غریبوں کے ہاتھ اوران بے حس وظالم حکمرانوں کے گریبان ہوں گے اس دن اوراس وقت توپھران کواپنے ان مظالم کاحساب دیناپڑے گا۔آئی ایم ایف کے اشاروں پر منی بجٹ کے ذریعے غریبوں کے منہ سے روٹی کاآخری نوالہ چھیننے والے غریبوں کانہ سہی اپنے حال پرہی تھوڑارحم کردیں کیونکہ اللہ کے ہاں دیرہے مگراندھیرنہیں۔ان غریبوں میں سے کسی ایک کی آہ بھی اگرلگی توانجام پھرٹھیک نہیں ہوگا۔ 

مصنف کے بارے میں