پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں: رپورٹ

پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں: رپورٹ

اسٹاک ہوم: اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب جاری کردہ جوہری ہتھیاروں کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں میں کمی ہو رہی ہے لیکن پاکستان و بھارت ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ Trends in world nuclear forces, 2017 کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا رواں سال عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم ہو کر 14 ہزار 935 ہو گئی جو سال 2016 کے اوائل میں 15 ہزار 395 تھی۔ امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور عوامی جمہوریہ کوریا کے پاس عملی طور پر تعینات جوہری ہتھیاروں کی تعداد تقریباً 4 ہزار 150 تھی۔


اس وقت روس کے پاس سب سے زیادہ 7 ہزار نیوکلیئر وار ہیڈز ہیں جس کے بعد امریکا کے پاس ان کی تعداد 6 ہزار 800 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا دونوں ممالک نے پچھلی دہائی کے مقابلے میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کی ہے البتہ کمی کی یہ رفتار کم ہے۔ ان دونوں ممالک کے مقابلے میں دیگر ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد نسبتاً کم ہے تاہم یہ ممالک یا تو اپنے ہتھیار تعینات کر چکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک نئے زمینی، بحری اور فضائی میزائل ڈیلوری سسٹم بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ جنوری 2017 تک پاکستان کے پاس جوہری وار ہیڈز کی تعداد تقریباً 140 تھی جس سے اس میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے 2016 کے ڈیٹا میں یہ تعداد 120 سے 130 تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان، خوشاب پنجاب میں اپنے اہم پلوٹونیم پروڈکشن کمپلیکس میں توسیع کر رہا ہے جو چار آپریشنل ہیوی واٹر نیو کلیئر ری ایکٹرز اور ایک ہیوی واٹر پروڈکشن پلانٹ پر مشتمل ہے جبکہ وہ دوسری سائٹ پر ایک نیا ری پروسیسِنگ پلانٹ بھی تعمیر کر رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال کے اوائل میں بھارت کے پاس نیو کلیئر ہتھیاروں کی تعداد 130 تک تھی جو 2016 میں 110 سے 120 تک تھی۔ بھارت اعتدال پسندی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے سائز اور نیو کلیئر وار ہیڈز کی پیداوار کے لیے انفراسٹرکچر میں توسیع کر رہا ہے۔

بھارت چھ تیز رفتار بریڈر ری ایکٹرز بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جن سے ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی پیداوار کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیتوں میں توسیع اور ساتھ ہی غیر محفوظ گیس سینٹری فیوج فیسیلٹی تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں