'نیب ملزموں کو ایسی بیماری کیوں لگتی ہے جس کا علاج پاکستان میں نہیں'

'نیب ملزموں کو ایسی بیماری کیوں لگتی ہے جس کا علاج پاکستان میں نہیں'

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے درخواست پر سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ان کے موکل علاج کے لیے بیرون ملک جاناچاہتے ہیں اور 17 جولائی کو لندن ہسپتال میں ان کے علاج کی تاریخ دی گئی ہے.


اس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ وہ جب سے جج بنے ہیں ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ نیب مقدمات کا سامنا کرنے والے ملزمان کو ایسی بیماری کیوں لگتی ہے جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوتا اور ہر بڑے آدمی کو بیماری کا سرٹیفیکیٹ کیسے مل جاتاہے اور ہر میڈیکل بورڈ کہتا ہے بڑے آدمی کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

جسٹس دوست محمد نے کہا کہ 1980 میں عدالت نے مرگی کے ایک مریض کی ضمانت منظور کی تھی اس کے بعد ہر ملزم مرگی کا سرٹیفیکیٹ لے آتا ہے۔ عدالت کے روبرو نیب کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنے اور ضمانت منسوخی کے لیے درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔

عدالت نے نیب، وزارت داخلہ اور ڈاکٹر عاصم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں