پیروکار روحانی گرو کی لاش ڈیپ فریزر میں رکھنے کی قانونی جنگ پھر جیت گئے

پیروکار روحانی گرو کی لاش ڈیپ فریزر میں رکھنے کی قانونی جنگ پھر جیت گئے

ہریانہ: پیروکاروں نے دیویا جیوتی جگریتری سنستھان کے بانی آشوتوش مہاراج کے بیٹے کی درخواست کے خلاف ایک بار پھر قانونی جنگ جیت لی۔ تین برس قبل بیٹے نے باپ کے پیروکاروں کے اقدام کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ کہ وہ ہندو مذہب کے مطابق اپنے والد کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ان کے والد کی لاش کو ان کے حوالے کیا جائے تاہم عدالت نے گزشتہ روز ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پیروکاروں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنے گرو کی لاش کو ڈیپ فریزر میں رکھ سکتے ہیں کیوں کہ مریدوں کا یہ ماننا ہے کہ انہیں موت نہیں آئی بلکہ وہ گہری سمادھی کی حالت میں چلے گئے ہیں اور دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔


دلیپ کمار جھا کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ عدالت نے مہاراج کے زندہ ہونے کا دعویٰ قبول کیا ہے یا نہیں البتہ انہوں نے ہماری درخواست مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ عدالت نے دلیپ کمار جھا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 2014 کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں ڈاکٹرز کی جانب سے مہاراج کو مردہ قرار دیے جانے کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

آشوتوش مہاراج 1983 میں پنجاب کے شہر جالندھر میں علیحدہ فرقے کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد خود بیداری اور عالمی امن کو فروغ دینا تھا۔ ان کے ماننے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔

آشوتوش مہاراج جنوری 2014 میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث چل بسے تھے تاہم ان کے پیروکار یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ مہاراج کی موت کے بعد سے ان کے ماننے والوں نے ان کی لاش کو ہریانہ میں واقع 100 ایکڑ کے رقبے پر محیط آشرم میں ایک فریزر کے اندر رکھا ہوا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں